Brailvi Books

سوانحِ کربلا
146 - 188
اعداء اس جنگ سے تنگ آگئے تو عمر بن سعد نے حکم دیا کہ لوگ اس کے گرد ہجوم کرکے حملہ کردیں اور ہرطرف سے یکبار گی ہاتھ چھوڑیں ایساہی کیا اورجب وہ نوجوان زخموں سے چورہوکر زمین پر آیاتو سیاہ دِلانِ بد باطن نے اس کا سر کاٹ کرلشکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ڈال دیا۔ اس کی ماں بیٹے کے سر کواپنے منہ سے ملتی تھی اور کہتی تھی اے بیٹا! بہادر بیٹا! اب تیری ماں تجھ سے راضی ہوئی۔ پھروہ سر اس دلہن کی گود میں لاکر رکھ دیا، دلہن نے اپنے پیارے شوہر کے سر کو بوسہ دیا۔ اسی وقت پروانہ کی طرح اس شمع جمال پر قربان ہوگئی اور اس کا طائر ِروح اپنے نوشاہ کے ساتھ ہم آغوش ہوگیا۔(1) ؎

سر خروئی اسے کہتے ہیں کہ راہِ حق میں 

سر کے دینے میں ذرا تو نے تامل نہ کیا
اَسْکَنکُمَا اللہُ فَرَادِیْسَ الْجِنَانِ وَاَغْرَقَکُمَا فِیْ بِحَارِ الرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوَانِ 

                     (روضۃ الاحباب )
     ان کے بعد اور سعادت مند جاں نثار ،دادِ جان نثاری دیتے اور جانیں فدا کرتے رہے۔ جن جن خوش نصیبوں کی قسمت میں تھا انہوں نے خاندانِ اہلِ بیت پر اپنی جانیں فداکرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس زمرہ میں حُربن یزید ریاحی قابل ذکر ہے۔ جنگ کے وقت حُرکا دل بہت مضطرب تھا اور اس کی سیماب وا ر بیقراری اس کو ایک جگہ نہ ٹھہرنے دیتی تھی، کبھی وہ عمربن سعد سے جاکر کہتے تھے کہ تم امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگ کروگے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دوگے؟عمربن سعد کو اس کا جواب نہ بن آتاتھا۔ وہاں سے ہٹ کر پھر میدا ن میں آتے ہیں،بدن کانپ رہاہے،
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب نہم، ج۲، ص۲۳۱۔۲۳۹
Flag Counter