Brailvi Books

سوانحِ کربلا
145 - 188
فنون دکھائے۔ صف اعداء سے مبارز طلب کیا جو سامنے آیاتلوار سے اس کا سراڑایا، گردو پیش خود سروں کے سروں کا انبار لگا دیااور ناکسوں کے تن خون و خاک میں تڑپتے نظر آنے لگے،یکبارگی گھوڑے کی باگ موڑدی اور ماں کے پاس آکر عرض کیا کہ اے مادر مشفقہ! تو مجھ سے راضی ہوئی اور بیوی کی طرف جاکر اس کے سر پرہاتھ رکھا جو بیقرار رورہی تھی اور اس کو صبر دلایا اس کی زبانِ حا ل کہتی تھی:

جان ز غم فرسودہ دارم چوں نہ نالم آہ آہ 

دل بدرد آلودہ دارم چوں نہ گریم زار زار 

    اتنے میں اعدا ء کی طرف سے آواز آئی کہ کیاکوئی مبارز ہے۔ وہب گھوڑے پر سوار ہوکر میدان کی طرف روانہ ہوا۔ نئی دلہن ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھ رہی ہے اور آنکھوں سے آنسو کے دریا بہارہی ہے ؎

از پیش من آں یار چو تعجیل کناں رفت 

دل نعرہ بر آورد کہ جاں رفت رواں رفت 

    وہب شیر ژیاں کی طرح تیغ آبدار و نیزۂ جاں شکار لے کر معرکۂ کا رزار میں صاعقہ وار آپہنچا۔ اس وقت میدان میں اعدا ء کی طرف سے ایک مشہور بہادر اور نامدار سوا ر حکم بن طفیل غرورِنبرد آزمائی میں سرشارتھا۔ وہب نے ایک ہی حملے میں اس کو نیزہ پر اٹھاکر اس طرح زمین پر دے مارا کہ ہڈیاں چکنا چو ر ہوگئیں اور دونوں لشکروں میں شور مچ گیااور مبارزوں میں ہمت مقابلہ نہ رہی وہب گھوڑادوڑاتاقلب دشمن پر پہنچا، جو مبارز سامنے آتااس کو نیزہ کی نوک پراٹھا کر خاک پر پٹک دیتا یہاں تک کہ نیزہ پارہ پارہ ہوگیا، تلوار میان سے نکالی اور تیغ زنوں کی گردنیں اـڑا کر خاک میں ملادیں۔ جب