یہ نوجوان اپنی اس نیک بی بی اور برگزیدہ ماں کو لے کر فرزند ِرسول.... صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔دلہن نے عرض کیا: یاابن رسول! شہداء گھوڑے سے زمین پر گرتے ہی حوروں کی گود میں پہونچتے ہیں اور بہشتی حسین کمالِ اطاعت شعاری کے ساتھ ان کی خدمت کرتے ہیں، میرا یہ نوجوان شوہر حضور پر جاں نثار ی کی تمنا رکھتاہے اور میں نہایت بے کس ہوں ، نہ میری ماں ہے نہ باپ ہے نہ کوئی بھائی ہے نہ ایسے قرابتی رشتہ دار ہیں جو میری کچھ خبرگیری کرسکیں۔التجا یہ ہے کہ عرصہ گاہِ محشر میں میرے اس شوہر سے جدائی نہ ہو اور دنیامیں مجھ غریب کو آپ کے اہلِ بیت اپنی کنیزوں میں رکھیں اور میری عمر کا آخری حصہ آپ کی پاک بیبیوں کی خدمت میں گزر جائے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے یہ تمام عہد ہوگئے اور وہب نے عرض کردیا کہ اے امام! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر حضور سیّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے مجھے جنت ملی تو میں عرض کروں گا کہ یہ بی بی میرے ساتھ رہے اور میں نے اس سے عہد کیاہے۔ وہب اجازت چاہ کر میدان میں چل دیا۔ لشکر اعداء نے دیکھاکہ گھوڑے پر ایک ماہرُ و، سوار ہے اور اجلِ ناگہانی کی طرح دشمن پر تاخت لاتاہے، ہاتھ میں نیزہ ہے، دوش پرسِپَر ہے اوردل ہلادینے والی آواز کے ساتھ یہ رجز پڑھتا آرہاہے: