قبول کرلیں۔ میں دل و جان سے آمادہ ہو ں ، ایک لمحہ کی اجازت چاہتا ہوں تاکہ اس بی بی سے دو باتیں کرلوں جس نے اپنی زندگی کے عیش و راحت کا سہرا میرے سر باندھا ہے اور جس کے ارمان میرے سوا کسی طرف نظر اٹھاکر نہیں دیکھتے، اس کی حسرتوں کے تڑپنے کا خیال ہے ، وہ اگر صبر نہ کرسکی تو میں اس کو اجازت دے دوں کہ وہ اپنی زندگی کو جس طرح چاہے گزارے۔ماں نے کہا: بیٹا !عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔مبادا تو اس کی باتوں میں آجائے اور یہ سعادت سرمدی تیرے ہاتھوں سے جاتی رہے۔وہب نے کہا :پیاری ماں ، امام حسین علیٰ جدہ و علیہ الصلوۃو السلام کی محبت کی گرہ دل میں ایسی مضبوط لگی ہے کہ اس کوکوئی کھول نہیں سکتااو ر ان کی جان نثاری کا نقش دل پر اس طرح جاگزیں ہواہے جو دنیا کے کسی بھی پانی سے نہیں دھویاجاسکتاہے۔ یہ کہہ کر بی بی کی طرف آیا اور اسے خبر دی کہ فرزندِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میدانِ کربلا میں بے یار ومددگار ہیں اور غداروں نے ان پر نرغہ کیاہے۔ میری تمنا ہے کہ ان پر جان نثار کروں۔ یہ سن کرنئی دلہن نے امید بھرے دل سے ایک آہ کھینچی اور کہنے لگی، اے میرے آرام جاں! افسوس یہ ہے کہ اس جنگ میں میں تیرا ساتھ نہیں دے سکتی، شریعتِ اسلامیہ نے عورتوں کوحرب کے لئے میدان میں آنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ افسوس! اس سعادت میں میرا حصہ نہیں کہ تیرے ساتھ میں بھی اس جان جہاں پر جان قربان کروں ابھی میں نے دل بھر کے تیرا چہرہ بھی نہیں دیکھا ہے اور تونے جنتی چمنستان کا ارادہ کردیا وہاں حوریں تیری خدمت کی آرزومند ہوں گی۔ مجھ سے عہد کرکہ جب سر دارانِ اہلِ بیت کے ساتھ جنت میں تیرے لئے بے شمار نعمتیں حاضر کی جائیں گی اور بہشتی حوریں تیری خدمت کے لئے حاضر ہوں اس وقت تو مجھے نہ بھول جائے۔