| سوانحِ کربلا |
ماں سے دریافت کرتاہے کہ مادر محترمہ رنج و ملال کا سبب کیاہے ؟ میں نے اپنی عمر میں کبھی آپ کی نافرمانی نہ کی نہ آئندہ کرسکتا ہوں۔ ا ۤپ کی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے اور میں تابہ زندگی مطیع و فرمانبردار رہوں گا۔ آپ کے دل کو کیاصدمہ پہونچا اور آپ کو کس غم نے رلایا؟ میری پیاری ماں! میں آپ کے حکم پر جان فدا کرنے کو تیار ہوں آپ غمگین نہ ہوں۔اکلوتے سعادت مند بیٹے کی یہ سعادت مندانہ گفتگو سن کر ماں اور چیخ مار کر رونے لگی اور کہنے لگی ، اے فرزند ِدلبند! میری آنکھ کا نور دل کا سرور توہی ہے اور اے میرے گھر کے چراغ اور میرے باغ کے پھول! میں نے اپنی جان گھلا گھلا کر تیری جوانی کی بہار پائی ہے، تو ہی میرے دل کا قرارہے توہی میری جان کا چین ہے، ایک دم تیری جدائی اور ایک لمحہ تیراا فتراق مجھے برداشت نہیں ہوسکتا ؎
چوں در خواب باشم توئی در خیالم چوں بیدار گردم توئی در ضمیرم
اے جان مادر !میں نے تجھے اپناخونِ جگر پلایا ہے۔ آج مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جگر گوشہ، خاتون جنت کا نونہال دشت کربلا میں مبتلائے مصیبت وجفاہے، پیارے بیٹے! کیاتجھ سے ہوسکتاہے کہ تو ا پنا خون اس پر نثار کرے اور اپنی جان اس کے قدموں پر قربان کرڈالے۔ اس بے غیرت زندگی پر ہزار تف ہے کہ ہم زندہ رہیں اور سیّدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا لاڈلا ظلم و جفا کے ساتھ شہید کیاجائے اگر تجھے میری محبتیں کچھ یاد ہوں اور تیری پرورش میں جومحنتیں میں نے اٹھائی ہیں ان کو تو بھولانہ ہو توا ے میرے چمن کے پھول! تو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر پر صدقہ ہوجا۔ وہب نے کہا:اے مادر مہربان !خوبی نصیب ، یہ جان ، شہزادۂ کو نَین پر فدا ہوجائے اور یہ ناچیز ہدیہ وہ آقا