خوانی کرتے ہوئے میدان میں آکودے اور تکبر و تبختر کے ساتھ اتراتے ہوئے گھوڑے دوڑا کر اور ہتھیار چمکا کرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مبار ز کے طالب ہوئے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام کے خاندان کے نونہال شوق جانبازی میں سرشارتھے۔ انہوں نے میدان میں جانا چاہا لیکن قریب کے گاؤں والے جہاں اس ہنگامے کی خبر پہونچی تھی وہاں کے مسلمان بے تاب ہوکر حاضر خدمت ہوگئے تھے انہوں نے اصرار کئے حضرت کے درپے ہوگئے اور کسی طرح راضی نہ ہوئے کہ جب تک ان میں سے ایک بھی زندہ ہے خاندانِ اہلِ بیت کا کوئی بچہ بھی میدان میں جائے۔حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان اخلاص کیشوں کی سرفروشانہ التجائیں منظور فرمانا پڑیں اور انہوں نے میدان میں پہونچ کر دشمنانِ اہل بیت سے شجاعت وبسالت کے ساتھ مقابلے کئے اوراپنی بہادری کے سکے جمادئیے اور ایک ایک نے اعداء کی کثیر تعداد کو ہلاک کرکے راہِ جنت اختیار کرنا شروع کی۔ اس طرح بہت سے جانباز فرزند ان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی جانیں نثار کرگئے۔ ان صاحبوں کے اسماء اور ان کی جانبازیوں کے تفصیلی تذکرے سیر کی کتابوں میں مسطور ہیں۔یہاں اختصار اً اس تفصیل کوچھوڑدیا گیاہے، وہب ابن عبداللہ کلبی کا ایک واقعہ ذکر کیاجاتاہے۔
یہ قبیلہ بنی کلب کے زیبا و نیک خو، گُلرخ حسین جوان تھے ، اٹھتی جوانی اور عُنفوانِ شباب ، امنگوں کاوقت اور بہاروں کے دن تھے۔ صرف سترہ رو زشادی کو ہوئے تھے اور ابھی بساطِ عشرت و نِشاط گرم ہی تھی کہ آپ کے پاس آپ کی والدہ پہونچیں جو ایک بیوہ عورت تھیں اور جن کی ساری کمائی اور گھر کا چراغ یہی ایک نوجوان بیٹا تھا۔ اس مُشفِق ماں نے پیارے بیٹے کے گلے میں باہیں ڈال کر رونا شروع کردیا۔ بیٹا حیرت میں آکر