Brailvi Books

سوانحِ کربلا
140 - 188
نے ڈنگ مارا تو نجاست آلُودہ تڑپتاپھرتاتھا۔ اس رسوائی کے ساتھ تمام لشکر کے سامنے اس ناپاک کی جان نکلی مگر سخت دِلانِ بے حمیت کو غیرت نہ ہوئی۔(1)

    ایک شخص مزنی نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آکر کہا کہ'' اے امام! رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھو تو دریائے فرات کیسا موجیں ماررہاہے۔ خد ا عزوجل کی قسم کھاکر کہتا ہوں تمہیں اس کا ایک قطرہ نہ ملے گا اورتم پیاسے ہلاک ہوجاؤگے ۔ ''حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے حق میں فرمایا: اَللّٰھُمَّ اَمِتْہ، عَطْشَانًا یارب !عزوجل اس کو پیاسا مار۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمانا تھا کہ مزنی کاگھوڑا چمکا، مزنی گرا، گھوڑا بھاگا اور مزنی اس کے پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑا اور پیاس اس پر غالب ہوئی، اس شدت کی غالب ہوئی کہ اَلْعَطَشْ اَلْعَطَشْ پکارتا تھا اور جب پانی اس کے منہ سے لگاتے تھے تو ایک قطرہ نہ پی سکتا تھا یہاں تک کہ اسی شدتِ پیاس میں مرگیا۔ (2)

    فرزند ِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بھی دکھادینا تھی کہ ان کی مقبولیتِ بارگاہِ حق پر اور ان کے قرب و منزلت پر جیسی کہ نصوص کثیرہ واحادیث ِشہیرہ شاہد ہیں ایسے ہی ان کے خوارق و کرامات بھی گواہ ہیں۔ اپنے اس فضل کا عملی اظہار بھی اِتمامِ حجت کے سلسلہ کی ایک کڑی تھی کہ اگر تم آنکھ رکھتے ہو تو دیکھ لو کہ جو ایسا مُستجاب الدعوات ہے اس کے مقابلہ میں آناخدا عزوجل سے جنگ کرناہے اس کا انجام سو چ لواور باز رہو مگر شرارت کے مجسمے اس سے بھی سبق نہ لے سکے اور دنیائے ناپائیدار کی حرص کا بھوت جو اُن کے سروں پر سوار تھا اس نے انھیں اندھا بنادیا اور نیزے بازلشکر اعداء سے نکل کر رجز
1۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم)، باب نہم، ج۲، ص۱۸۶۔۱۸۸

2۔۔۔۔۔۔روضۃ الشہداء (مترجم)، باب نہم، ج۲، ص۱۸۸
Flag Counter