اورراست بازی اور عدالت و انصاف کا ایک عدیم ُالمثال منظرہے کہ ایسی حالت میں جب کہ جنگ کیلئے مجبور کئے گئے تھے۔ خون کے پیاسے تلواریں کھینچے ہوئے جان کے خواہاں تھے ۔بے باکوں نے کمالِ بے ادبی و گستاخی سے ایسا کلمہ کہا اور ایک جاں نثار اس کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت چاہتا ہے تو اس وقت اپنے جذبات قبضہ میں ہیں طیش نہیں آتا۔ فرماتے ہیں کہ خبردار! میری طرف سے کوئی جنگ کی ابتداء نہ کرے تاکہ اس خونریزی کا وبال اعداء ہی کی گردن پر رہے اور ہمارا دامن اقدام سے آلودہ نہ ہو لیکن تیرے جراحتِ قلب کا مرہم بھی میرے پاس ہے اورتیرے سوزِ جگر کی تشفی کی بھی تدبیر رکھتا ہوں، اب تو دیکھ ! یہ فرماکر دست دعا دراز فرمائے اور بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کیا کہ یارب! عزوجل عذاب نار سے قبل اس گستاخ کو دنیا میں آتشِ عذاب میں مبتلا کر۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ اٹھانا تھا کہ اس کے گھوڑے کا پاؤں ایک سوراخ میں گیا اور وہ گھوڑے سے گرا اور اس کا پاؤں رِکاب میں الجھا اورگھوڑاا سے لے کر بھاگا اور آگ کی خندق میں ڈال دیا۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجدۂ شکر کیا اوراپنے پروردگارعزوجل کی حمدو ثناء کی اور فرمایا:''اے پروردگار!عزوجل تیر ا شکر ہے کہ تو نے اہلِ بیتِ رسالت کے بدخواہ کو سزادی۔'' حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان سے یہ کلمہ سن کر صفِ اعدا ء میں سے ایک اور بے باک نے کہاکہ آپ کو پیغمبرِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کیا نسبت؟ یہ کلمہ تو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔ آپ نے اس کے لئے بھی بددعا فرمائی اور عرض کیا یارب!عزوجل اس بدزبان کو فوری عذاب میں گرفتار کر۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا فرمائی اور اس کو قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی، گھوڑے سے اتر کرایک طرف بھاگا اور کسی جگہ قضائے حاجت کے لئے برہنہ ہوکر بیٹھا ۔ایک سیاہ بچھو