احادیث وارد ہوئی ہیں اس سے تم بے خبر نہیں ہو۔''
اس کا جواب یہ دیا گیا کہ آپ کے تمام فضائل ہمیں معلوم ہیں مگر اس وقت یہ مسئلہ زیربحث نہیں ہے، آپ جنگ کے لئے کسی کو میدان میں بھیجئے اور گفتگوختم فرمائیے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ'' میں حجتیں ختم کرنا چاہتاہوں تاکہ اس جنگ کو دفع کرنے کی تدابیر میں سے میری طرف سے کوئی تدبیر رہ نہ جائے اور جب تم مجبور کرتے ہوتو بمجبوری وناچاری مجھ کوتلوار اٹھاناہی پڑے گی۔'' (1)
ہُنوزگفتگو ہوہی رہی تھی کہ گروہِ اعداء میں سے ایک شخص گھوڑا دوڑاکر سامنے آیا (جس کانام مالک بن عروہ تھا) جب اس نے دیکھا کہ لشکر امام کے گرد خند ق میں آگ جل رہی ہے اور شعلے بلند ہورہے ہیں اور اس تدبیر سے اہلِ خیمہ کی حفاظت کی جاتی ہے تو اس گستاخ بدباطن نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے حسین !رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم نے وہاں کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگالی۔ حضرت امام عالی مقام علی جدہ وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا: کَذَبْتَ یَا عَدُوَّاللہِاے دشمن خدا! توکاذب ہے۔تجھے گمان ہے کہ میں دوزخ میں جاؤں گا۔
مسلم بن عوسجہ کو مالک بن عروہ کا یہ کلمہ بہت ناگوار ہوااور انہوں نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بدزبان کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت چاہی۔ صبر وتحمل اور تقویٰ