آغوشِ رسالت کو کیساپَژْمُردہ کردیا ہوگا۔ ان غریبانِ بے وطن پر جوروجفا کے پہاڑ توڑنے کیلئے بائیس ہزار فوج اور تازہ دم لشکر تیروتَبَر،تیغ و سناں سے مسلح صفیں باندھے موجود، جنگ کا نقارہ بجادیا گیااور مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند اور فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے جگر بند کو مہماں بناکر بلا نے والی قوم نے جانوں پر کھیلنے کی دعوت دی۔(1)
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرصۂ کارزار میں تشریف فرماکر ایک خطبہ فرمایا جس میں بیان فرمایاکہ '' خون ناحق حرام او رغضب الٰہی عزوجل کا موجب ہے، میں تمہیں آگاہ کرتاہوں کہ تم اس گناہ میں مبتلانہ ہو،میں نے کسی کو قتل نہیں کیاہے، کسی کا گھر نہیں جلایا، کسی پر حملہ آور نہیں ہوا۔ اگر تم اپنے شہر میں میرا آنا نہیں چاہتے ہوتو مجھے واپس جانے دو، تم سے کسی چیز کا طلب گار نہیں، تمہارے درپے آزارنہیں، تم کیوں میری جان کے درپے ہو اور تم کس طرح میرے خون کے الزام سے بری ہوسکتے ہو؟ روزِ محشر تمہارے پاس میرے خون کا کیاجواب ہوگا؟ اپنا انجام سو چو اور اپنی عاقبت پر نظر ڈالو،پھر یہ بھی سمجھو کہ میں کون اور بارگاہِ رسالت میں کس چشمِ کرم کا منظور نظرہوں، میرے والد کون ہیں اور میری والدہ کس کی لخت جگرہیں؟میں انھیں بتولِ زہرا کا نور ِدید ہ ہوں جن کے پل صراط پر گزرتے وقت عرش سے ندا کی جائے گی کہ اے اہل محشر! سر جھکاؤاور آنکھیں بندکروکہ حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہاپل صراط سے ستر (70) ہزار حوروں کو رکابِ سعادت میں لے کر گزرنے والی ہیں۔ میں وہی ہوں جس کی محبت کو سرورِعالم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی محبت فرمایاہے، میرے فضائل تمہیں خوب معلوم ہیں، میرے حق میں جو