جب کسی طرح شَکْلِ مُصَالَحَتْ پیدا نہ ہوئی اور کسی شکل سے جفا شِعار قوم صلح کی طرف مائل نہ ہوئی اور تمام صورتیں ان کے سامنے پیش کردی گئیں، لیکن تشنگانِ خونِ اہلِ بیت کسی بات پر راضی نہ ہوئے اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین ہوگیا کہ اب کوئی شکل خلاص کی باقی نہیں ہے نہ یہ شہر میں داخل ہونے دیتے ہیں نہ واپس جانے دیتے ہیں نہ ملک چھوڑنے پر ان کو تسلی ہوتی ہے۔ وہ جان کے خواہاں ہیں اور اب اس جنگ کو دفع کرنے کاکوئی طریقہ باقی نہ رہا۔اس وقت حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قیام گاہ کے گرد ایک خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودی گئی اور اس کی صرف ایک راہ رکھی گئی ہے جہاں سے نکل کر دشمنوں سے مقابلہ کیاجائے۔خندق میں آگ جلادی گئی تاکہ اہلِ خیمہ دشمنوں کی ایذا سے محفوظ رہیں۔
دسویں محرم کا قیامت نُمادن آیا۔ جمعہ کی صبح حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام اپنے رُفقاءِ اہلِ بیت کے ساتھ فجر کے وقت اپنی عمر کی آخری نماز باجماعت نہایت ذوق و شوق تضرّع و خشوع کے ساتھ ادافرمائی۔ پیشانیوں نے سجدوں میں خوب مزے لئے، زبانوں نے قرأ ت و تسبیحات کے لطف اٹھائے۔ نماز سے فراغ کے بعد خیمہ میں تشریف لائے، دسویں محرم کا آفتاب قریب طلوع ہے، امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے تمام رفقاء واہل بیت تین دن کے بھوکے پیاسے ہیں، ایک قطرۂ آب میسر نہیں آیا اور ایک لقمہ حلق سے نہیں اترا، بھوک پیاس سے جس قدر ضعف و ناتوانی کا غلبہ ہوجاتا ہے اس کاس وہی لوگ کچھ اندازہ کرسکتے ہیں جنہیں کبھی دو تین وقت کے فاقہ کی بھی نوبت آئی ہو۔پھر بے وطنی ، تیز دھوپ، گرم ریت ، گرم ہوائیں، انہوں نے ناز پروردگانِ