Brailvi Books

سوانحِ کربلا
135 - 188
  اس معرکہ ظلم و ستم میں اگرر ستم بھی ہوتا تو اس کے حوصلے پست ہوجاتے اور سرِ نیاز جھکادیتا مگر فرزند ِرسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کو مصائب کا ہجوم جگہ سے نہ ہٹا سکا اور ان کے عزم و استقلال میں فرق نہ آیا، حق وصداقت کا حامی مصیبتوں کی بھیانک گھٹاؤں سے نہ ڈرا اور طوفانِ بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثبات میں جنبش بھی نہ ہوئی، دین کا شیدائی دنیا کی آفتوں کو خیال میں نہ لایا، دس محرم تک یہی بحث رہی کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ یزید کی بیعت کرلیں۔ اگر آپ یزید کی بیعت کرتے تووہ تمام لشکر آپ کے جِلَو میں ہوتا، آپ کا کمال اکرام و احترام کیا جاتا، خزانوں کے منہ کھول دئیے جاتے اور دولت دنیا قدموں پر لٹا دی جاتی مگر جس کا دل حُبِّ دنیاسے خالی ہو اور دنیا کی بے ثباتی کا راز جس پر منکشف ہو وہ اس طلسم پر کب مفتوں ہوتا ہے، جس آنکھ نے حقیقی حسن کے جلوے دیکھے ہوں وہ نمائشی رنگ وروپ پر کیا نظر ڈالے۔

حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے راحتِ دنیا کے منہ پر ٹھوکر ماردی اور راہِ حق میں پہونچنے والی مصیبتوں کاخوش دلی سے خیر مقدم کیا اور باوجود اس قدر آفتوں اور بلاؤں کے ناجائز بیعت کاخیال اپنے قلب مبارک میں نہ آنے دیا اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی گوارانہ فرمائی، اپنا گھر لٹانا اور اپنے خون بہانا منظور کیا مگر اسلام کی عزت میں فرق آنا برداشت نہ ہوسکا۔(1)
۔۔۔۔۔۔البدایۃ والنہایۃ، سنۃ احدی وستین،ج۵، ص۶۷۸۔۶۸۲ملخصاً

والکامل فی التاریخ، سنۃ احدی وستین،ذکر مقتل الحسین،ج۳،ص۴۱۲۔۴۱۶ملخصاً
Flag Counter