Brailvi Books

سوانحِ کربلا
134 - 188
کے کیسے کیسے مناظر ان کی آنکھوں نے دیکھے تھے کہ اس چھوٹی سی جماعت کے لئے دوگنی چوگنی دس گنی تو کیا سوگنی تعداد کو بھی کافی نہ سمجھا،بے اندازہ لشکر بھیج دئیے، فوجوں کے پہاڑ لگاڈالے، اس پر بھی دل خوف زدہ ہیں اور جنگ آزماؤں، دلاوروں کے حوصلے پست ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شیرانِ حق کے حملے کی تاب لانا مشکل ہے مجبوراً یہ تدبیر کرنا پڑی کہ لشکر امام پر پانی بند کیا جائے، پیاس کی شدت اور گرمی کی حدّت سے قُویٰ مضمحل ہوجائیں، ضُعْف انتہا کو پہنچ چکے تب جنگ شروع کی جائے۔ ؎

وہ ریگِ گرم اور وہ دھوپ اور وہ پیاس کی شدت 

کریں صبر و تحمل میرِ کوثر ایسے ہوتے ہیں

    اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پانی بند کرنے اور ان کے خونوں کے دریا بہانے کیلئے بے غیرتی سے سامنے آنے والوں میں زیادہ تعدادانھیں بے حیاؤں کی تھی جنہوں نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدہادرخواستیں بھیج کر بلایا تھا اور مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر حضرت امام کی بیعت کی تھی مگر آج دشمنان حمیت و غیرت کو نہ اپنے عہد و بیعت کا پاس تھا نہ اپنی دعوت ومیزبانی کالحاظ۔ فرات کا بے حساب پانی ان سیاہ باطنوں نے خاندانِ رسالت پر بند کردیاتھا۔ اہل بیت کے چھوٹے چھوٹے خورْد سال فاطمی چمن کے نونہال خشک لب، تشنہ َدہان تھے، نادان بچے ایک ایک قطرہ کے لئے تڑپ رہے تھے، نور کی تصویریں پیاس کی شدت میں دم توڑرہی تھیں، بیماروں کے لئے دریاکا کنارا بیابان بنا ہواتھا، آل رسول کولبِ آب پانی میسر نہ آتاتھا، سرِچشمہ تیمم سے نمازیں پڑھنی پڑتی تھیں، اس طرح بے آب ودانہ تین دن گذر گئے، چھوٹے چھوٹے بچے اور بیبیاں سب بھوک و پیاس سے بیتاب و تواں ہوگئے۔