سپہ سالار عمربن سعد کو بنایا جو اس زمانے میں ملک رے کاوالی (گورنر) تھا۔ رے خراسان کا ایک شہر ہے جو آج کل ایران کادارالسلطنت ہے اور اس کوطہران کہتے ہیں۔
ستم شعار محار بین سب کے سب حضرت امام کی عظمت و فضیلت کو خوب جانتے پہچانتے تھے اور آپ کی جلالت ومرتبت کا ہردل مُعْتَرِف تھا۔ اس وجہ سے ابن سعد نے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقاتلہ سے گریز کرنی چاہی اور پہلوتہی کی وہ چاہتا تھا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کے الزام سے وہ بچارہے مگر ابن زیاد نے اسے مجبور کیا کہ اب دوہی صورتیں ہیں یا تورے کی حکومت سے دست بردارہوورنہ امام سے مقابلہ کیاجائے۔ دنیوی حکومت کے لالچ نے اس کو اس جنگ پر آمادہ کردیا جس کو اس وقت وہ ناگوار سمجھتا تھا اور جس کے تصور سے اس کا دل کانپتا تھا۔ آخر کار ابن سعد وہ تمام عساکر وافواج لے کر حضرت امام کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوا اور ابن زیاد بد نہاد پیہم و متواتر کُمَک پر کُمَک بھیجتا رہایہاں تک کہ عمرو بن سعد کے پاس بائیس ہزار سوار وپیادہ جمع ہوگئے اور اس نے اس جمعیت کے ساتھ کربلا میں پہونچ کر فرات کے کنارے پڑاؤ کیا اور اپنا مرکز قائم کیا۔(1)
حیرت ناک بات ہے اور دنیاکی کسی جنگ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ کُل بیاسی تو آدمی ، ان میں بیبیاں بھی، بچے بھی، بیمار بھی ، پھر وہ بھی بارادۂ جنگ نہیں آئے تھے اور انتظام حرب کافی نہ رکھتے تھے۔ ان کے لئے بائیس ہزار کی جرار فوج بھیجی جائے۔ آخر وہ ان بیاسی نفوس مقدسہ کواپنے خیال میں کیا سمجھتے تھے اور ان کی شجاعت وبسالت