Brailvi Books

سوانحِ کربلا
132 - 188
ہے۔ یہاں تک کہ اس معز ز مہمان کو مع اپنے اہل بیت کے کھلے میدان میں رختِ اقامت ڈالنا پڑتا ہے اور دشمنان حیا کو غیرت نہیں آتی۔ دنیامیں ایسے معزز مہمان کے ساتھ ایسی بے حمیتی کا سلوک کبھی نہ ہواہوگا جو کوفیوں نے حضرت امام کے ساتھ کیا۔ 

    یہاں تو ان مسافر انِ بے وطن کا سامان بے ترتیب پڑاہے اور ادھر ہزار سوار کا مسلح لشکر مقابل خیمہ زن ہے جواپنے مہمانوں کو نیزوں کی نوکیں اور تلواروں کی دھاریں دکھا رہاہے اور بجائے آداب میزبانی کے خونخواری پر تلاہواہے۔ دریائے فرات کے قریب دونوں لشکر تھے اور دریائے فرات کا پانی دونوں لشکر وں میں سے کسی کو سیراب نہ کرسکا۔ امام کے لشکر کو تو اس کا ایک قطرہ پہنچنا ہی مشکل ہوگیا اور یزیدی لشکر جتنے آتے گئے ان سب کواہل بیت رسالت کے بے گناہ خون کی پیاس بڑھتی گئی۔ آب فرات سے ان کی تشنگی میں کوئی فرق نہ آیا۔ ابھی اطمینان سے بیٹھنے اور تکان دورکرنے کی صورت بھی نظرنہ آئی تھی کہ حضرت امام کی خدمت میں ابن زیاد کا ایک مکتوب پہنچا جس میں اس نے حضرت امام سے یزید ناپاک کی بیعت طلب کی تھی۔ حضرت امام نے وہ خط پڑھ کر ڈال دیا اورقاصد سے کہا میرے پاس اس کا کچھ جواب نہیں۔

    ستم ہے ، بلایا تو جاتاہے خود بیعت ہونے کے لئے اور جب وہ کریم بادیہ پیمائی کی مشقتیں برداشت فرماکر تشریف لے آتے ہیں تو ان کو یزید جیسے عیب مجسم شخص کی بیعت پر مجبور کیاجاتاہے جس کی بیعت کو کوئی بھی واقف حال دیندار آدمی گوارا نہیں کرسکتاتھا نہ وہ بیعت کسی طرح جائز تھی۔ امام کوا ن بے حیاؤں کی اس جرأت پر حیرت تھی اور اسی لئے آپ نے فرمایا کہ میرے پاس اس کا کچھ جواب نہیں ہے۔ اس سے ابن زیاد کا طیش اور زیاد ہ ہوگیا اور اس نے مزید عسا کر وافواج ترتیب دئیے اور ان لشکر وں کا