Brailvi Books

سوانحِ کربلا
131 - 188
 کسی بات کا چھپانا ممکن نہیں اور اگر ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ذرا بھی فَرُوْگُذاشْت کی گئی ہے تووہ نہایت سختی کے ساتھ پیش آئے گا۔ اس اندیشہ اورخیال سے حر اپنی بات پراڑارہا یہاں تک کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ کی راہ سے ہٹ کر کربلامیں نزول فرمانا پڑا۔

    یہ محرم 61ھ؁ کی دوسری تاریخ تھی۔ آپ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس جگہ کو کربلا کہتے ہیں۔ حضرت امام کربلا سے واقف تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ کربلا ہی وہ جگہ ہے جہاں اہلِ بیتِ رسالت کوراہِ حق میں اپنے خون کی ندیاں بہانی ہوں گی۔(1) آپ کو انہیں دنوں میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے آپ کوشہادت کی خبردی اور آپ کے سینۂ مبارک پر دست اقدس رکھ کر دعا فرمائی:
 اَللّٰھُمَّ اَعْطِ الْحُسَیْنَ صَبْرًا وَاَجْرًا
عجیب وقت ہے کہ سلطان دارین کے نور نظر کو صدہاتمناؤں سے مہمان بناکر بلایاہے، عرضیوں اور درخواستوں کے طومارلگا دئیے ہیں، قاصدوں اور پیاموں کی روز مرہ ڈاک لگ گئی ہے۔ اہل کوفہ راتوں کواپنے مکانوں میں امام کی تشریف آوری خواب میں دیکھتے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے، جماعتیں مدتوں تک صبح سے شام تک حجاز کی سڑک پر بیٹھ کر امام کی آمد کا انتظار کیاکرتی ہیں اور شام کو بادِلِ مَغْموم واپس جاتی ہیں لیکن جب وہ کریم مہمان... اپنے کرم سے ان کی زمین میں ورودفرماتا ہے تو ان ہی کوفیوں کا مسلح لشکر سامنے آتاہے اور نہ شہر میں داخل ہونے دیتا ہے نہ اپنے وطن ہی کو واپس تشریف لے جانے پر راضی ہوتا
Flag Counter