کسی بات کا چھپانا ممکن نہیں اور اگر ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ذرا بھی فَرُوْگُذاشْت کی گئی ہے تووہ نہایت سختی کے ساتھ پیش آئے گا۔ اس اندیشہ اورخیال سے حر اپنی بات پراڑارہا یہاں تک کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ کی راہ سے ہٹ کر کربلامیں نزول فرمانا پڑا۔
یہ محرم 61ھ کی دوسری تاریخ تھی۔ آپ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس جگہ کو کربلا کہتے ہیں۔ حضرت امام کربلا سے واقف تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ کربلا ہی وہ جگہ ہے جہاں اہلِ بیتِ رسالت کوراہِ حق میں اپنے خون کی ندیاں بہانی ہوں گی۔(1) آپ کو انہیں دنوں میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے آپ کوشہادت کی خبردی اور آپ کے سینۂ مبارک پر دست اقدس رکھ کر دعا فرمائی: