راہ میں حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفیوں کی بد عہدی اورحضرت مسلم کی شہادت کی خبرمل گئی۔ اس وقت آپ کی جماعت میں مختلف رائیں ہوئیں اور ایک مرتبہ آپ نے بھی واپسی کا قصد ظاہر فرمایا لیکن بہت گفتگویوں کے بعد رائے یہی قرار پائی کہ سفر جاری رکھا جائے اور واپسی کا خیال ترک کیاجائے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس مشورہ سے اتفاق کیاا ور قافلہ ا ۤگے چل دیا یہاں تک کہ جب کوفہ دو منزل رہ گیا تب آپ کو حربن یزید ریاحی ملا، حر کے ساتھ ابن زیاد کے ایک ہزارہتھیار بند سوار تھے، حرنے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جناب میں عرض کیا کہ اس کو ابن زیاد نے آپ کی طرف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ کو اس کے پاس لے چلے، حر نے یہ بھی ظاہر کیا کہ وہ مجبورانہ بادلِ نخواستہ آیاہے اور اس کو آپ کی خمت میں جرأت بہت ناپسند و ناگوار ہے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حر سے فرمایا کہ میں اس شہر میں خودبخودنہ آیا بلکہ مجھے بلانے کے لئے اہل کوفہ کے متواتر پیام گئے اور لگاتار نامے پہونچتے رہے۔ اے اہل کوفہ! اگر تم اپنے عہد وبیعت پر قائم ہواور تمہیں اپنی زبانوں کا کچھ پاس ہو تو تمہارے شہر میں داخل ہوں ورنہ یہیں سے واپس چلا جاؤں۔حر نے قسم کھا کر کہا کہ ہم کو اس کا کچھ علم نہیں کہ آپ کے پاس التجا نامے اور قاصد بھیجے گئے اور میں نہ آپ کو چھوڑسکتا ہوں اور نہ واپس ہوسکتا ہوں۔
حر کے دل میں خاندان نبوت اوراہل بیت کی عظمت ضرور تھی اور اس نے نمازوں میں حضرت اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی اقتدا کی لیکن وہ ابن زیاد کے حکم سے مجبور تھااور اس کو یہ اندیشہ بھی تھا کہ وہ اگر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوئی مراعات کرے تو ابن زیادپر یہ بات ظاہر ہوکررہے گی کہ ہزار سوار ساتھ ہیں،ایسی صورت میں