| سوانحِ کربلا |
لے کر راہِ عراق اختیارکی۔ مکہ مکرمہ سے اہل بیت رسالت کا یہ چھوٹا سا قافلہ روانہ ہوتا ہے اور دنیا سے سفر کرنے والے بیت اللہ الحرام کا آخری طواف کرکے خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ لپٹ کرروتے ہیں، ان کی گرم آہوں اور دل ہلادینے والے نالوں نے مکہ مکرمہ کے باشندوں کو مغموم کردیا، مکہ مکرمہ کا بچہ بچہ اہل بیت کے اس قافلہ کو حرم شریف سے رخصت ہوتا دیکھ کر آبدیدہ اور مغموم ہورہاتھا مگر وہ جانبازوں کے میرِ لشکر اور فداکاروں کے قافلہ سالار مردانہ ہمت کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اَثنائے راہ میں ذاتِ عرق کے مقام پر بشیر ابن غالب اسدی بعَزْمِ مکہ مکرمہ کوفہ سے آتے ملے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے اہل عراق کا حال دریافت کیا، عرض کیا کہ انکے قلوب آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ اورخدا جو چاہتا ہے کرتاہے۔
وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ ایسی ہی گفتگو فرزدق شاعر سے ہوئی۔ بطن ذی الرمہ (نام مقامے) سے روانہ ہونے کے بعد عبداللہ بن مطیع سے ملاقات ہوئی۔ وہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت درپے ہوئے کہ آپ اس سفر کوترک فرمائیں اور اس میں انہوں نے اندیشے ظاہر کیے۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا ۚ
(2) ہمیں وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے جو خداوند عالم نے ہمارے لئے مقرر فرمادی۔(3)
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان:اللہ جو چاہے کرے۔(۱۳، ابرٰہیم:۲۷) 2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان: ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا۔(پ۱۰،التوبۃ:۵۱) 3۔۔۔۔۔۔البدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین من الہجرۃ النبویۃ، صفۃ مخرج الحسین الی العراق،ج۵، ص۶۶۸۔۶۷۴ملتقطاً و ملخصاً والکامل فی التاریخ،سنۃ ستین،ذکر الخبر عن مراسلۃ...الخ، ج۳،ص۳۸۱