گوارانہ کرتے تھے اوروہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اصرار کررہے تھے کہ آپ اس سفر کو ملتوی فرمائیں مگر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی یہ استدعا قبول فرمانے سے مجبور تھے کیونکہ آپ کو خیال تھاکہ کوفیوں کی اتنی بڑی جماعت کا اس قدر اصرار اور ایسی التجاؤں کے ساتھ عرضداشتیں پذیرا، نہ فرماناا ہلِ بیت کے اَخلاق کے شایاں نہیں۔ اس کے علاوہ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہنچنے پر اہل کوفہ کی طرف سے کوئی کوتاہی نہ ہونا اور امام کی بیعت کے لئے شوق سے ہاتھ پھیلادینا اور ہزاروں کوفیوں کا داخلِ حلقۂ غلامی ہوجانا، اس پر بھی حضرت امام کا ان کی طرف سے اِغْماض فرمانا اور ان کی ایسی التجاؤں کو جو محض دینی پاسداری کے لیے ہیں، ٹھکرا دینا اور اس مسلمان قوم کی دل شکنی کرنا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی طرح گوارانہ ہوا۔ ادھر حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے صفا کِیْش کی استدعا کو بے التفاتی کی نظرسے دیکھنا اور ان کی درخواستِ تشریف آوری کوردفرمادینا بھی حضرت امام پر بہت شاق تھا۔ یہ وجوہ تھے جنہوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سفرِ عراق پر مجبور کیااور آپ کو اپنے حجازی عقیدت مندوں سے معذرت کرنا پڑی۔(1)
حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر ، حضرت جابر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو واقدلیثی اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روکنے میں بہت مصر تھے اور آخر تک وہ یہی کوشش کرتے رہے کہ آپ مکہ مکرمہ سے تشریف نہ لے جائیں لیکن یہ کوششیں کار آمد نہ ہوئیں اورحضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 3ذی الحجہ 60ھ کواپنے اہل بیت موالی وخدام کل بیاسی (82)نفوس کو ہمراہ