| سوانحِ کربلا |
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاخط آنے کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفیوں کی درخواست قبول فرمانے میں کوئی وجہ تامل وجائے عذرباقی نہیں رہتی تھی، ظاہری شکل تویہ تھی اور حقیقت میں قضاوقدر کے فرمان نافذ ہوچکے تھے شہادت کا وقت نزدیک آچکاتھا، جذبۂ شوق دل کوکھینچ رہا تھا، فدا کاری کے ولولوں نے دل کو بیتاب کردیاتھا، حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفر عراق کا ارادہ فرمایا اور اسباب سفر درست ہونے لگا، نیاز مندان صادق العقیدت کو اطلاع ہوئی۔ اگرچہ ظاہر میں کوئی مُخَوِّف صورت پیش نظر نہ تھی اور حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط سے کوفیوں کی عقیدت وارادت اور ہزار ہاآدمیوں کے حلقۂ بیعت میں داخل ہونے کی اطلاع مل چکی، غَدَر اورجنگ کا بظاہر کوئی قرینہ نہ تھالیکن صحابہ کے دل اس وقت حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سفر کو کسی طرح
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ تھے ۔ سب نے شہادت پائی۔ حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزندوں میں حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کربلا پہنچنے سے پہلے ہی مع اپنے دو صاحبزادوں محمد و ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے شہید ہوچکے اور تین فرزند حضرت عبد اللہ و حضرت عبد الرحمن و حضرت جعفر برادران حضرت مسلم علیہم الرضوان امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کربلا حاضر ہو کر شہید ہوئے۔
حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو پوتے حضرت محمد اور حضرت عون رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ حاضر ہوکر شہید ہوئے ان کے والد کا نام عبد اللہ بن جعفر ہے اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حقیقی بھانجے ہیں۔ ان کی والدہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حقیقی بہن ہیں۔ صاحبزادگان اہل بیت میں سے سترہ حضرات حضرت کے ہمراہ حاضر ہوکر رتبہ شہادت کو پہنچے اور حضرت امام زین العابدین(بیمار)اور عمر بن حسن اور محمد بن عمر بن علی اور دوسرے صغیر السن صاحبزادے علیہم الرضوان قیدی بنائے گئے۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حقیقی ہمشیرہ اور شہر بانو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ اور حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دختر اور دوسری اہل بیت کی بیبیاں ہمراہ تھیں۔رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ ۱۲منہ