Brailvi Books

سوانحِ کربلا
126 - 188
اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔(1)
1۔۔۔۔۔۔ آپ کے ہمراہ اس وقت مسطورہ ذیل حضرات تھے۔تین فرزند حضرت امام علی اوسط جن کو امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو حضرت شہر بانو بنت یزد جرد بن شہریاربن خسرو پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں کے بطن سے ہیں ان کی عمراس وقت بائیس سال کی تھی اوروہ مریض تھے۔ حضرت امام کے دوسرے صاحبزادے حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو یعلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی کے بطن سے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال کی تھی (یہ شریک جنگ ہوکر شہید ہوئے) تیسرے شیر خوار جنہیں علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جن کا نام عبد اللہ اور جعفر بھی بتایا گیا ہے اس نام میں اختلاف ہے آپ کی والدہ قبیلہ بنی قضاعہ سے ہیں اور ایک صاحبزادی جن کانام سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے اور جن کی نسبت حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئی تھی اور اس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی۔ کربلا میں ان کا نکاح ہونے کی جوروایت مشہور ہے وہ غلط ہے اس کی کچھ اصل نہیں اور کچھ ایسے کم عقل لوگوں نے یہ روایت وضع کی ہے جنھیں اتنی بھی تمیز نہ تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتے کہ اہل بیت رسالت کے لیے وہ وقت توجہ الی اللہ اور شوق شہادت اور اتمام حجت کا تھا۔ اس وقت شادی نکاح کی طرف التفات ہونا بھی ان حالات کے منافی ہے۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات بھی راہِ شام میں مشہور کی جاتی ہے یہ بھی غلط ہے بلکہ وہ واقعہ کربلا کے بعد عرصہ تک حیات رہیں اور ان کا نکاح حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوا۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ امراء القیس ابن عدی کی دختر قبیلہ بنی کلب سے ہیں۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ازواج میں سب سے زیادہ ان کے ساتھ محبت تھی اور ان کا بہت زیادہ اکرام و احترام فرماتے تھے۔ حضرت امام کا ایک شعر ہے ؎

1۔۔۔۔۔۔ آپ کے ہمراہ اس وقت مسطورہ ذیل حضرات تھے۔تین فرزند حضرت امام علی اوسط جن کو امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو حضرت شہر بانو بنت یزد جرد بن شہریاربن خسرو پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں کے بطن سے ہیں ان کی عمراس وقت بائیس سال کی تھی اوروہ مریض تھے۔ حضرت امام کے دوسرے صاحبزادے حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو یعلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی کے بطن سے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال کی تھی (یہ شریک جنگ ہوکر شہید ہوئے) تیسرے شیر خوار جنہیں علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جن کا نام عبد اللہ اور جعفر بھی بتایا گیا ہے اس نام میں اختلاف ہے آپ کی والدہ قبیلہ بنی قضاعہ سے ہیں اور ایک صاحبزادی جن کانام سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے اور جن کی نسبت حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئی تھی اور اس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی۔ کربلا میں ان کا نکاح ہونے کی جوروایت مشہور ہے وہ غلط ہے اس کی کچھ اصل نہیں اور کچھ ایسے کم عقل لوگوں نے یہ روایت وضع کی ہے جنھیں اتنی بھی تمیز نہ تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتے کہ اہل بیت رسالت کے لیے وہ وقت توجہ الی اللہ اور شوق شہادت اور اتمام حجت کا تھا۔ اس وقت شادی نکاح کی طرف التفات ہونا بھی ان حالات کے منافی ہے۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات بھی راہِ شام میں مشہور کی جاتی ہے یہ بھی غلط ہے بلکہ وہ واقعہ کربلا کے بعد عرصہ تک حیات رہیں اور ان کا نکاح حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوا۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ امراء القیس ابن عدی کی دختر قبیلہ بنی کلب سے ہیں۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ازواج میں سب سے زیادہ ان کے ساتھ محبت تھی اور ان کا بہت زیادہ اکرام و احترام فرماتے تھے۔ حضرت امام کا ایک شعر ہے ؎

1۔۔۔۔۔۔ آپ کے ہمراہ اس وقت مسطورہ ذیل حضرات تھے۔تین فرزند حضرت امام علی اوسط جن کو امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو حضرت شہر بانو بنت یزد جرد بن شہریاربن خسرو پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں کے بطن سے ہیں ان کی عمراس وقت بائیس سال کی تھی اوروہ مریض تھے۔ حضرت امام کے دوسرے صاحبزادے حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو یعلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی کے بطن سے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال کی تھی (یہ شریک جنگ ہوکر شہید ہوئے) تیسرے شیر خوار جنہیں علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جن کا نام عبد اللہ اور جعفر بھی بتایا گیا ہے اس نام میں اختلاف ہے آپ کی والدہ قبیلہ بنی قضاعہ سے ہیں اور ایک صاحبزادی جن کانام سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے اور جن کی نسبت حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئی تھی اور اس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی۔ کربلا میں ان کا نکاح ہونے کی جوروایت مشہور ہے وہ غلط ہے اس کی کچھ اصل نہیں اور کچھ ایسے کم عقل لوگوں نے یہ روایت وضع کی ہے جنھیں اتنی بھی تمیز نہ تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتے کہ اہل بیت رسالت کے لیے وہ وقت توجہ الی اللہ اور شوق شہادت اور اتمام حجت کا تھا۔ اس وقت شادی نکاح کی طرف التفات ہونا بھی ان حالات کے منافی ہے۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات بھی راہِ شام میں مشہور کی جاتی ہے یہ بھی غلط ہے بلکہ وہ واقعہ کربلا کے بعد عرصہ تک حیات رہیں اور ان کا نکاح حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوا۔ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ امراء القیس ابن عدی کی دختر قبیلہ بنی کلب سے ہیں۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ازواج میں سب سے زیادہ ان کے ساتھ محبت تھی اور ان کا بہت زیادہ اکرام و احترام فرماتے تھے۔ حضرت امام کا ایک شعر ہے ؎
لَعُمْرِیْ اِنَّنِیْ لَاُحِبُّ اَرْضًا



تَحُلُّ بِھَا سَکِیْنَۃُ وَالرَّبَابُ
    اس سے معلوم ہوتاہے کہ امام عالی مقام کو حضرت سکینہ اور ان کی والدہ ماجدہ سے کس قدر محبت تھی۔ حضرت امام کی بڑی صاحبزادی حضرت فاطمہ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہاجو حضرت ام اسحٰق بنت حضرت طلحہ کے بطن سے ہیں اپنے شوہر حضرت حسن بن مثنیٰ بن حضرت امام حسن ابن حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ۔(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کے ساتھ مدینہ طیبہ میں رہیں کربلا تشریف نہ لائیں۔ امام کے ازواج میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حضرت شہر بانو اور حضرت علی اصغر کی والدہ تھیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار نوجوان فرزند حضرت قاسم،حضرت عبد اللہ، حضرت عمر، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ تھے اور کربلا میں شہید ہوئے۔ حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پانچ فرزند حضرت عباس ابن علی ،حضرت عثمان ابن علی،حضرت عبد اللہ ابن علی، حضرت محمد ابن علی، حضرت جعفر ابن علی، رضی اللہ تعالیٰ عنہم
Flag Counter