دونوں صاحبزادے آپ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اس بے کسی کی حالت میں اپنے شفیق والد کاسر ان کے مبارک تن سے جدا ہوتے دیکھا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے دل غم سے پھٹ گئے اور اس صدمہ میں وہ بَیْد کی طرح لرزنے اور کانپنے لگے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو دیکھتا تھا اور ان کی سرمگیں آنکھوں سے خونی اشک جاری تھے لیکن اس معرکۂ ستم میں کوئی ان نادانوں پر رحم کرنے والا نہ تھا، ستم گاروں نے ان نونہالوں کو بھی تیغ ستم سے شہید کیا اور ہانی کو قتل کرکے سولی چڑھایا۔ ان تمام شہیدوں کے سر نیزوں پر چڑھاکر کوفہ کے گلی کوچوں میں پھرائے گئے اور بے حیائی کے ساتھ کوفیوں نے اپنی سنگ دلی اور مہمان کُشی کا عملی طور پر اعلان کیا۔(2)
یہ واقعہ 3 ذی الحجہ 60ھ کا ہے۔ اسی روز مکہ مکرمہ سے حضرت امام حسین رضی
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اے رب ہمارے ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر۔ (پ۹،الاعراف:۸۹)
2۔۔۔۔۔۔تاریخ الطبری،سنۃ ستین،باب مقتل الحسین بن علی...الخ،ج۴،ص۶۸
والمنتظم لابن جوزی، سنۃ ستین من الہجرۃ، باب ذکر بیعۃ یزید بن معاویۃ...الخ،
ج۵،ص۳۲۶
والکامل فی التاریخ، سنۃ ستین،خروج الحسین...الخ، مقتل مسلم بن عقیل،ج۳،
ص۳۹۸ملتقطاً
والبدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین من الہجرۃ النبویۃ، صفۃ مخرج الحسین الی العراق،ج۵،
ص۶۶۵