اس جماعت پر اسطرح ٹوٹ پڑے جیسے شیرِ ببر گلۂ گوسْپَنْد پرحملہ آور ہو۔ آپکے شیرانہ حملوں سے دل آوروں نے دل چھوڑ دئیے اور بہت آدمی زخمی ہوگئے، بعض مارے گئے۔ معلوم ہوا کہ بنی ہاشم کے اس ایک جوان سے نامردانِ کوفہ کی یہ جماعت نَبْرَد آزما نہیں ہوسکتی۔ اب تجویز کی کہ کوئی چال چلنی چاہیے اور کسی فریب سے حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ یہ سوچ کر امن و صلح کا اعلان کردیا اور حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے آپ کے درمیان جنگ کی ضرورت نہیں ہے نہ ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لڑنا چاہتے ہیں مدعا صرف اس قدر ہے کہ آپ ابن زیاد کے پاس تشریف لے چلیں اور اس سے گفتگو کرکے معاملہ طے کرلیں۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میراخود قصدِجنگ نہیں اور جس وقت میرے ساتھ چالیس ہزار کا لشکر تھااس وقت بھی میں نے جنگ نہیں کی اور میں یہی انتظار کرتا رہاکہ ابن زیاد گفتگو کرکے کوئی شکلِ مُصالَحَت پیدا کرے تو خونریزی نہ ہو۔(1)
چنانچہ یہ لوگ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مع ان کے دونوں صاحبزادوں کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے کر روانہ ہوئے۔ اس بدبخت نے پہلے ہی سے دروازہ کے دونوں پہلوؤں میں اندر کی جانب تیغ زن چھپا کر کھڑے کردئیے تھے اور انہیں حکم دے دیا تھا کہ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ میں داخل ہوں تو ایک دم دونوں طرف سے ان پروار کیاجائے۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی کیا خبر تھی اور آپ اس مکاری