محترم مہمانوں کو مدعو کرنے کے لئے رسل و رسائل کا تانتاباندھ دیا گیاتھا، نادان بچے ساتھ ہیں، کہاں انہیں لٹائیں، کہا ں سلائیں، کوفہ کے وسیع خطہ میں دوچار گز زمین حضرت مسلم کے شب گزارنے کے لئے نظر نہیں آتی۔ اس وقت حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد آتی ہے اور دل تڑپادیتی ہے، وہ سوچتے ہیں کہ میں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جناب میں خط لکھا ، تشریف آوری کی التجا کی ہے اور اس بد عہد قوم کے اخلاص و عقیدت کاایک دل کش نقشہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور پیش کیا ہے اور تشریف آوری پر زوردیاہے۔ یقیناحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری التجا ردنہ فرمائیں گے اور یہاں کے حالات سے مطمئن ہوکر مع اہل و عیال چل پڑے ہوں گے یہاں انھیں کیا مصائب پہنچیں گے اور چمن زہرا کے جنتی پھولوں کو اس بے مِہْری کی طَپِش کیسے گَزَنْد پہنچائے گی۔ یہ غم الگ دل کو گھائل کررہاتھا اور اپنی تحریر پر شرمندگی و انفعال اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے خطرات علیحدہ بے چین کررہے تھے اور موجودہ پریشانی جداد امن گیر تھی۔
اس حالت میں حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیاس معلوم ہوئی، ایک گھر سامنے نظر پڑا جہاں طوعہ نامی ایک عورت موجود تھی اس سے آپ نے پانی مانگا، اس نے آپ کو پہچان کر پانی دیا اور اپنی سعادت سمجھ کر آپ کو اپنے مکان میں فَروکَش کیا۔ اس عورت کا بیٹا محمد ابن اشعث کا گُرگا تھا، اس نے فوراً ہی اس کو خبردی اور اس نے ابن زیاد کو اس پر مطلع کیا۔ عبیداللہ ابن زیاد نے عمرو بن حریث( کو توال کوفہ) اور محمد بن اشعث کو بھیجا ان دونوں نے ایک جماعت ساتھ لے کر طوعہ کے گھر کا احاطہ کیا اور چاہا کہ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرفتار کرلیں۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی تلوارلے کر نکلے اور بناچاری آپ نے ان ظالموں سے مقابلہ شروع کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ