کو مجبور کرکے حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جماعت سے علیحدہ کردیں۔
یہ لوگ ابن زیاد کے ہاتھ میں قید تھے اور جانتے تھے کہ اگرا بن زیا د کوشکست بھی ہوئی تو وہ قلعہ فتح ہونے تک ان کاخاتمہ کردیگا۔ اس خوف سے وہ گھبراکر اٹھے اور انہوں نے دیوارِ قلعہ پر چڑھ کر اپنے متعلقین و متوسلین سے گفتگو کی اور انھیں حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رَفاقَت چھوڑدینے پر انتہادرجہ کا زوردیا اور بتایا کہ علاوہ اس بات کے کہ حکومت تمہاری دشمن ہوجائے گی یزید ناپاک طِیْنَت تمہارے بچہ بچہ کو قتل کرڈالے گا، تمہارے مال لٹوادے گا، تمہاری جاگیریں اور مکان ضبط ہوجائیں گے، یہ اور مصیبت ہے کہ اگر تم امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہے تو ہم جوابن زیاد کے ہاتھ میں قید ہیں قلعہ کے اند رمارے جائیں گے، اپنے انجام پر نظر سڈالو،ہمارے حال پر رحم کرو، اپنے گھروں پر چلے جاؤ۔ یہ حیلہ کامیاب ہوا اور حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر منتشر ہونے لگا یہاں تک کہ تابوقتِ شام حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کوفہ میں جس وقت مغرب کی نماز شروع کی تو آپ کے ساتھ پانچ سو آدمی تھے اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۔ تمناؤں کے اظہار اور التجاؤں کے طومار سے جس عزیز مہمان کو بلایا تھا اس کے ساتھ یہ وفاہے کہ وہ تنہا ہیں اور ان کی رَفاقت کے لئے کوئی ایک بھی موجود نہیں، کوفہ والوں نے حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑنے سے پہلے غیرت و حمیت سے قطع تعلق کیا اور انہیں ذرا پرواہ نہ ہوئی کہ قیامت تک تمام عالَم میں ان کی بے ہمتی کا شُہْرہ رہے گا اور ا س بزدلانہ بے مروتی اور نامردی سے وہ رسوائے عالَم ہوں گے۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس غربت و مسافرت میں تنہا رہ گئے، کدھر جائیں، کہاں قیام کریں، حیرت ہے کوفہ کے تمام مہمان خانوں کے دروازے مقفّل تھے جہاں سے ایسے