Brailvi Books

سوانحِ کربلا
121 - 188
کرامنگایا اور قید کرلیا، کوفہ کے تمام رؤسا وعمائد کو بھی قلعہ میں نظر بند کرلیا۔(1)

    حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خبر پاکر برآمد ہوئے اور آپ نے اپنے متوسّلین کو ندا کی، جوق جوق آدمی آنے شروع ہوئے اور چالیس ہزارکی جمعیت نے آپ کے ساتھ قصر شاہی کا احاطہ کرلیا، صورت بن آئی تھی حملہ کرنے کی دیر تھی۔ اگرحضرت مسلم حملہ کرنے کا حکم دیتے تو اسی وقت قلعہ فتح پاتا اور ابن زیاد اور اس کے ہمراہی حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں گرفتار ہوتے اور یہی لشکر سیلاب کی طرح امنڈ کر شامیوں کوتاخت و تاراج کرڈالتا اور یزید کو جان بچانے کے لیے کوئی راہ نہ ملتی۔نقشہ تو یہی جما تھا مگر کار بدست کار کنان قدرست ، بندوں کا سوچا کیا ہوتاہے۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قلعہ کا احاطہ تو کرلیا اور باوجود یکہ کوفیوں کی بد عہدی اور ابن زیاد کی فریب کاری اور یزید کی عداوت پورے طو ر پر ثابت ہو چکی تھی۔ پھر بھی آپ نے اپنے لشکر کوحملہ کا حکم نہ دیااور ایک بادشاہ داد گُسْتَرکے نائب کی حیثیت سے آپ نے انتظار فرمایا کہ پہلے گفتگو سے قطع حجت کرلیا جائے او رصلح کی صورت پیدا ہوسکے تو مسلمانوں میں خونریزی نہ ہونے دی جائے۔ آپ اپنے اس پاک ارادہ سے انتظار میں رہے اور اپنی احتیاط کو ہاتھ سے نہ دیا، دشمن نے اس وقفہ سے فائدہ اٹھا یا اور کوفہ کے رؤساو عمائد جن کو ابن زیاد نے پہلے سے قلعہ میں بند کر رکھا تھا انھیں مجبور کیا کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور زیرِاثر لوگوں
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، سنۃ ستین، خروج الحسین...الخ، دعوۃ اہل الکوفۃ...الخ، ج۳، 

ص۳۸۷۔۳۸۸ملتقطاً 

والبدایۃ والنہایۃ ، سنۃ ستین من الہجرۃ النبویۃ ، قصۃ الحسین بن علی...الخ ، ج۵، 

ص۶۵۶۔۶۵۸ملتقطاً

وتاریخ الطبری، سنۃ ستین، باب مقتل الحسین بن علی...الخ، ج۴، ص۶۶
Flag Counter