تھا، وہ بصرہ سے روانہ ہوا اور اس نے اپنی فوج کو قادِسِیَّہ میں چھوڑا اور خود حجازیوں کا لباس پہن کر اونٹ پر سوار ہوا اور چند آدمی ہمراہ لے کر شب کی تاریکی میں مغرب و عشاء کے درمیان اس راہ سے کوفہ میں داخل ہوا جس سے حجازی قافلے آیا کرتے تھے۔ اس مکاری سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت اہلِ کوفہ میں بہت جوش ہے، ایسے طور پر داخل ہونا چاہیے کہ وہ ابنِ زیاد کو نہ پہچانیں اور یہ سمجھیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے آئے تاکہ وہ بے خطرہ و اندیشہ امن و عافیت کے ساتھ کوفہ میں داخل ہوجائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا، اہلِ کوفہ جن کو ہر لمحہ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشریف آوری کا انتظار تھا، انہوں نے دھوکا کھایا اور شب کی تاریکی میں حجازی لباس اور حجازی راہ سے آتا دیکھ کر سمجھے کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے آئے، نعرہ ہائے مسرت بلند کئے، گردو پیش مرحبا کہتے چلے مَرْ حَبًا بِکَ یَا اِبْنَ رَسُوْلِ اللہِ اور قَدِمْتَ خَیْرَ مَقْدَمٍ کا شور مچایا۔یہ مردود دل میں تو جلتا رہا اور اس نے اندازہ کرلیا کہ کوفیوں کو حضرت اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشریف آوری کاانتظار ہے اور ان کے دل ان کی طرف مائل ہیں مگر اس وقت کی مصلحت سے خاموش رہا تاکہ ان پر اس کا مکر کھل نہ جائے یہاں تک کہ دارالامارہ (گورنمنٹ ہاؤس) میں داخل ہوگیا۔ اس وقت کوفی یہ سمجھے کہ یہ حضرت نہ تھے بلکہ ابن زیاد اس فریب کاری کے ساتھ آیااور انھیں حسرت و مایوسی ہوئی۔ رات گزار کر صبح کو ابن زیاد نے اہل کوفہ کو جمع کیا اور حکومت کا پروانہ پڑھ کر انہیں سنایا اور یزید کی مخالفت سے ڈرایا دھمکایا، طرح طرح کے حیلوں سے حضرت مسلم کی جماعت کو منتشر کردیا، حضرت مسلم نے ہانی بن عروہ کے مکان میں اقامت فرمائی، ابن زیاد نے محمد بن اشعث کو ایک دستہ فوج کے ساتھ ہانی کے مکان پر بھیج کر اس کوگرفتار