Brailvi Books

سوانحِ کربلا
119 - 188
    حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہلِ عراق کی گَرْوِیْدَ گی وعقیدت دیکھ کر حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جناب میں عریضہ لکھا جس میں یہاں کے حالات کی اطلاع دی اور التماس کی کہ ضرورت ہے کہ حضرت جلد تشریف لائیں تاکہ بندگانِ خدا، ناپاک کے شر سے محفوظ رہيں اور دین حق کی تائید ہو، مسلمان امام حق کی بیعت سے مشرف و فیض یاب ہوسکیں۔ اہل کوفہ کا یہ جوش دیکھ کر حضرت نعمان بن بشیر صحابی نے جواس زمانے میں حکومت شام کی جانب سے کوفہ کے والی (گورنر) تھے۔ اہل کوفہ کو مطلع کیا کہ یہ بیعت یزید کی مرضی کے خلاف ہے اور وہ اس پر بہت بھڑ کے گا لیکن اتنی اطلاع دے کر ضابطہ کی کارروائی پوری کرکے حضرت نعمان بن بشیرخاموش ہوبیٹھے اور اس معاملہ میں کسی قسم کی دست اندازی نہ کی۔(1)

    مسلم بن یزید حضرمی اور عمارہ بن ولید بن عقبہ نے یزید کو اطلاع دی کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ہیں اور اہل کوفہ میں ان کی محبت و عقیدت کا جوش دَم بدَم بڑھ رہا ہے۔ ہزارہا آدمی ان کے ہاتھ پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کرچکے ہیں اور نعمان بن بشیر نے اب تک کوئی کارروائی انکے خلاف نہیں کی نہ اِنْسِدادی تدابیر عمل میں لائے۔ 

    یزید نے یہ اطلاع پاتے ہی نعمان بن بشیر کو معزول کیا اور عبید اللہ بن زیاد کو جواس کی طرف سے بصرہ کا والی تھاان کا قائم مقام کیا۔ عبید اللہ بن زیاد بہت مکار وکَیَّاد
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، سنۃ ستین، خروج الحسین...الخ، دعوۃ اہل الکوفۃ...الخ، ج۳، 

ص۳۸۵،۳۸۶ ملخصاً

والبدایۃ والنہایۃ ، سنۃ ستین من الہجرۃ النبویۃ ، قصۃ الحسین بن علی...الخ، ج۵، 

ص۶۵۷ملخصاً
Flag Counter