| سوانحِ کربلا |
یہ مرحلہ درپیش ہوگالیکن اندیشہ مانع تھا۔ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے مسئلہ کی یہ صورت در پیش تھی کہ اس استدعا کو روکنے کے لئے عذر شرعی کیاہے۔ ادھر ایسے جلیل القدر صحابہ علیہم الرضوان کے شدید اصرار کا لحاظ، ادھر اہل کوفہ کی استدعا ردنہ فرمانے کے لئے کوئی شرعی عذر نہ ہوناحضرت امام کے لئے نہایت پیچیدہ مسئلہ تھا جس کا حل بجزا س کے کچھ نظر نہ آیا کہ پہلے حضرت امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجاجائے اگر کوفیوں نے بد عہدی وبے وفائی کی تو عذر شرعی مل جائے گا اور اگر وہ اپنے عہد پر قائم رہے توصحابہ کو تسلی دی جاسکے گی۔(1)
کوفہ کوحضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روانگی
اس بنا پر آپ نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ روانہ فرمایا اور اہل کوفہ کو تحریر فرمایا کہ تمہاری استدعا پر ہم حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوروانہ کرتے ہیں ان کی نصرت و حمایت تم پر لازم ہے۔ حضرت مسلم کے دو فرزند محمد اور ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو اپنے باپ کے بہت پیارے بیٹے تھے اس سفر میں اپنے پدر مشفق کے ہمراہ ہوئے۔ حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ پہنچ کر مختار بن ابی عبید کے مکان پر قیام فرمایا آپ کی تشریف آوری کی خبر سن کرجُوْق جُوْق مخلوق آپ کی زیارت کو آئی اور بارہ ہزار سے زیادہ تعداد نے ا ۤپ کے دست مبارک پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی۔
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،باب یزید بن معاویۃ ابوخالد الاموی، ص۱۶۴۔۱۶۵ملتقطاً والکامل فی التاریخ ، سنۃ ستین، خروج الحسین...الخ، دعوۃ اہل الکوفۃ ...الخ، ج۳، ص۳۸۵،۳۸۶ملتقطاً والبدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین من الہجرۃ النبویۃ، صفۃ مخرج الحسین الی العراق، ج۵، ص۶۶۷ملتقطاً وملخصاً