اگرچہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر مشہور تھی اور کوفیوں کی بیوفائی کا پہلے بھی تجربہ ہو چکا تھا مگر جب یزید بادشاہ بن گیااور اس کی حکومت و سلطنت دین کے لئے خطرہ تھی اور اس کی وجہ سے اس کی بیعت نارواتھی اور وہ طرح طرح کی تدبیروں او ر حیلوں سے چاہتا تھا کہ لوگ اس کی بیعت کریں۔ ان حالات میں کوفیوں کا بپاسِ ملت یزید کی بیعت سے دست کَشی کرنا اورحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طالبِ بیعت ہونا امام پر لازم کرتا تھا کہ ان کی درخواست قبول فرمائیں جب ایک قوم ظالم و فاسق کی بیعت پر راضی نہ ہواور صاحب استحقاق اہل سے درخواستِ بیعت کرے اس پر اگر وہ ان کی استدعاقبول نہ کرے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ اس قوم کو اس جابر ہی کے حوالے کرنا چاہتاہے ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر اس وقت کوفیوں کی درخواست قبول نہ فرماتے تو بارگاہِ الٰہی عزوجل میں کوفیوں کے اس مطالبہ کا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کیا جواب ہوتا کہ ہم ہر چند درپے ہوئے مگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت کے لئے راضی نہ ہوئے ۔بدیں وجہ ہمیں یزید کے ظلم وتشدد سے مجبور ہوکراس کی بیعت کرنا پڑی اگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہاتھ بڑھاتے تو ہم ان پر جانیں فدا کرنے کیلئے حاضر تھے۔ یہ مسئلہ ایسا درپیش آیا جس کا حل بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی دعوت پر لبیک فرمائیں۔
اگرچہ اکابر صحابہ کرام حضرت ابن عباس و حضرت ابن عمر و حضرت جابر و حضرت ابوسعید وحضرت ابو واقدلیثی وغیر ہم علیہم الرضوان حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس رائے سے متفق نہ تھے اورا نہیں کوفیوں کے عہد ومَواثِیْق کا اعتبار نہ تھا، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت اور شہادتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہکی شہرت ان سب کے دلوں میں اِخْتِلاج پیدا کر رہی تھی، گوکہ یہ یقین کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ تھی کہ شہادت کا یہی وقت ہے اور اسی سفر میں