| سوانحِ کربلا |
غم کی بارش کی ہوگی دلِ دردمند غمِ مَہْجُوری سے گھائل ہوگا، جَدِّ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضۂ طاہرہ سے جدائی کا صدمہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر رنج وغم کے پہاڑ توڑ رہا ہوگا، اہل مدینہ کی مصیبت کا بھی کیااندازہ ہوسکتا ہے۔ دیدارِ حبیب کے فدائی اس فرزند کی زیارت سے اپنے قلب مجروح کو تسکین دیتے تھے۔ ان کادیدار ان کے دل کا قرار تھا، آہ ! آج یہ قرارِ دل مدینہ طیبہ سے رخصت ہورہا ہے۔ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ طیبہ سے بہزار غم و اَندوہ بادِلِ ناشاد رحلت فرماکر مکہ مکرمہ اقامت فرمائی۔
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جناب میں کوفیوں کی درخواستیں
یزیدیوں کی کوششوں سے اہل شام سے جہاں یزید کی تخت گاہ تھی یزید کی رائے مل سکی اور وہاں کے باشندوں نے ا س کی بیعت کی۔ اہل کوفہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ہی میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں درخواستیں بھیج رہے تھے، تشریف آوری کی التجائیں کررہے تھے لیکن امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صاف انکار کردیا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات اور یزید کی تخت نشینی کے بعد اہل عراق کی جماعتوں نے متفق ہوکر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں درخواستیں بھیجیں اور ان میں اپنی نیاز مندی و جذبات عقیدت و اخلاص کا اظہار کیا اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنے جان و مال فدا کر نے کی تمنا ظاہر کی، اس طرح کے التجا ناموں ا ور درخواستوں کا سلسلہ بندھ گیا اور تمام جماعتوں اور فرقوں کی طرف سے ڈیڑھ سو کے قریب عرضیاں حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پہنچیں،کہاں تک اِغْماض کیا جاتااور کب تک حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاق جوابِ خشک کی اجازت دیتے؟ ناچار آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روانگی تجویز فرمائی۔