Brailvi Books

سوانحِ کربلا
115 - 188
جمع ہوجاتی لیکن اسلام کا نظام درہم برہم ہوجاتا اور دین میں ایسا فساد برپا ہوجاتا جس کادور کرنا بعد کو ناممکن ہوتا۔ یزید کی ہر بدکاری کے جواز کے لئے امام کی بیعت سند ہوتی اور شریعت اسلامیہ و ملت حنفیہ کا نقشہ مٹ جاتا۔ شیعوں کو بھی آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ امام نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا اور تَقَیَّہ کا تصور بھی خاطِرِ مبارک پر نہ گزرا، اگرتَقَیَّہ جائز ہوتا تو اس کیلئے اس سے زیادہ ضرورت کا اور کون وقت ہوسکتا تھا؟ حضرت امام وابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیعت کی درخواست اسی لئے پہلے کی گئی تھی کہ تمام اہلِ مدینہ ان کا اتباع کریں گے، اگر ان حضرات نے بیعت کرلی تو پھر کسی کو تأمُّل نہ ہوگا لیکن ان حضرات کے انکار سے وہ منصوبہ خاک میں مل گیا اور یزیدیوں میں اسی وقت سے آتش عِنادبھڑک اٹھی اور بضرورت ان حضرات کو اسی شب مدینہ سے مکہ مکرمہ منتقل ہوناپڑا۔ یہ واقعہ چوتھی شعبان 60ھ ؁ کا ہے۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدینۂ طَیَّبہ سے رِحْلَت
    مدینہ سے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رحلت کا دن اہلِ مدینہ اور خود حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کیسے رنج و اَنْدُوْہ کا دن تھا۔ اطراف عالم سے تو مسلمان وطن ترک کرکے اَعِزَّہ و احباب کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ حاضر ہونے کی تمنائیں کریں، دربار رسالت کی حاضری کا شوق دشوار گزار منزلیں اوربروبحرکاطویل اورخوفناک سفر اختیار کرنے کے لئے بیقرار بنادے، ایک ایک لمحہ کی جدائی انھیں شاق ہو،اور فرزند ِرسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ) جَو ارِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے رحلت کرنے پر مجبور ہو۔ اس وقت کا تصور دل کوپاش پاش کردیتاہے جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارادۂ رخصت آستانۂ قدسیہ پر حاضر ہوئے ہوں گے اور دیدۂ خونبار نے اشکِ
Flag Counter