جمع ہوجاتی لیکن اسلام کا نظام درہم برہم ہوجاتا اور دین میں ایسا فساد برپا ہوجاتا جس کادور کرنا بعد کو ناممکن ہوتا۔ یزید کی ہر بدکاری کے جواز کے لئے امام کی بیعت سند ہوتی اور شریعت اسلامیہ و ملت حنفیہ کا نقشہ مٹ جاتا۔ شیعوں کو بھی آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ امام نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا اور تَقَیَّہ کا تصور بھی خاطِرِ مبارک پر نہ گزرا، اگرتَقَیَّہ جائز ہوتا تو اس کیلئے اس سے زیادہ ضرورت کا اور کون وقت ہوسکتا تھا؟ حضرت امام وابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیعت کی درخواست اسی لئے پہلے کی گئی تھی کہ تمام اہلِ مدینہ ان کا اتباع کریں گے، اگر ان حضرات نے بیعت کرلی تو پھر کسی کو تأمُّل نہ ہوگا لیکن ان حضرات کے انکار سے وہ منصوبہ خاک میں مل گیا اور یزیدیوں میں اسی وقت سے آتش عِنادبھڑک اٹھی اور بضرورت ان حضرات کو اسی شب مدینہ سے مکہ مکرمہ منتقل ہوناپڑا۔ یہ واقعہ چوتھی شعبان 60ھ کا ہے۔