Brailvi Books

سوانحِ کربلا
114 - 188
میں پیارا رفیق اور بہترین مونس ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور تبرکات کے صدقے میں مجھ پر رحم فرمائے گا۔ اس سے وہ سمجھ سکتا تھا کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بدن پاک سے چھوجانا ایک کپڑے کو ایسا بابرکت بنا دیتا ہے توحسنین کریمین اور آلِ پاک علیہم الرضوان جو بدنِ اقدس کا جزو ہیں ان کا کیا مرتبہ ہوگا اور ان کا کیااحترام لازم ہے۔ مگربد نصیبی اور شقاوت کا کیا علاج۔ 

    امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد یزید تختِ سلطنت پر بیٹھا اور اس نے اپنی بیعت لینے کیلئے اطراف و ممالک سلطنت میں مکتوب روانہ کئے، مدینہ طیبہ کا عامل جب یزید کی بیعت لینے کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہواتو آپ نے اس کے فسق و ظلم کی بنا پر اس کونااہل قراردیا اور بیعت سے انکار فرمایا اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی۔(1)

    حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ بیعت کا انکار یزید کے اِشْتِعال کا باعث ہوگا اور نابکار جان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہوجائے گالیکن امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دیانت و تقویٰ نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان کی خاطر نااہل کے ہاتھ پر بیعت کرلیں اور مسلمانو ں کی تباہی اور شرع واحکام کی بے حرمتی اور دین کی مَضَرَّت کی پرواہ نہ کریں اور یہ امام جیسے جلیلُ الشَّان فرزند ِرسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) سے کس طرح ممکن تھا؟ اگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت یزید کی بیعت کرلیتے تو یزید آپ کی بہت قدر و منزلت کرتا اور آپ کی عافیت وراحت میں کوئی فرق نہ آتا بلکہ بہت سی دولت دنیا آپ کے پاس
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال،حرف المیم،فصل فی الصحابۃ،ص۶۱۷

وتاریخ الخلفاء،باب یزید بن معاویۃ...الخ،ص۱۶۴
Flag Counter