امیرمعاویہ نے رجب 60 ھ میں بمقا مِ دِمَشْق لَقْوَہ میں مبتلاہوکروفات پائی۔ آپ کے پاس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات میں سے ازارشریف، ردائے اقدس، قمیص مبارک، موئے شریف اور ترا شہائے ناخن ہُمَایوں تھے، آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازا رشریف وردائے مبارک و قمیص اقدس میں کفن دیاجائے اور میرے ان اعضا پر جن سے سجدہ کیا جاتا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے موئے مبارک اور ترا شۂ ناخنِ اقدس رکھ دئیے جائیں اور مجھے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے رحم پر چھوڑ دیاجائے۔
کورِباطن یزید نے دیکھا تھاکہ اس کے باپ امیر معاویہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات اور بدنِ اقدس سے چھوجانے والے کپڑوں کو جان سے زیادہ عزیز رکھا تھا اور دمِ آخر تمام زر ومال ثروت وحکومت سب سے زیادہ وہی چیزپیاری تھی اور اسی کو ساتھ لے جانے کی تمنا حضرت امیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں تھی۔ اس کی برکت سے انہیں امید تھی کہ اس ملبوس پاک میں بوئے محبوب ہے۔ یہ مقام غربت