Brailvi Books

سوانحِ کربلا
112 - 188
   یہ بد باطن ،سیاہ دل ، ننگِ خاندان 25ھ؁ میں ا میر معاویہ کے گھر مَیْسون بنت بَحْدَل کلبیہ کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ نہایت موٹا، بدنما، کثیرالشعر ، بدخُلْق، تُنْدخُو، فاسق، فاجر، شرابی، بدکار،ظالم، بے ادب، گستاخ تھا۔ اس کی شرارتیں اور بیہودگیاں ایسی ہیں جن سے بدمعاشوں کو بھی شرم آئے۔ عبداللہ بن حنظلۃ ابن الغسیل رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: خداعزوجل کی قسم!ہم نے یزیدپراس وقت خروج کیا جب ہمیں اندیشہ ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب آسمان سے پتھر نہ برسنے لگیں۔( واقدی ) 

    محرمات کے ساتھ نکاح اورسود وغیرہ مَنْہِیَّات کو اس بے دین نے عَلانِیَہ رواج دیا۔ مدینہ طیبہ ومکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرائی۔ ایسے شخص کی حکومت گُرْگ کی چوپانی سے زیادہ خطرناک تھی، اَرْبابِِ فِرا سَت اور اصحابِِ اَسر ار اس وقت سے ڈرتے تھے جب کہ عِنانِ سلطنت اس شَقِی کے ہاتھ میں آئی، 59ھ؁ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ رَأْسِ السِّتِّیْنِ وَاِمَارَۃِ الصِّبْیَان''
یارب! عزوجل میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں 60ھ؁ کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے۔''

     اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوحاملِ اسرار تھے انھیں معلوم تھا کہ 60ھ؁ کا آغاز لڑکوں کی حکومت اور فتنوں کا وقت ہے۔ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور انہوں نے 59 ھ؁ میں بمقام مدینہ طیبہ رحلت فرمائی۔

    رویانی نے اپنی مسند میں حضرت ابو درداء صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ میں نے حضو ر اقدس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سناکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' میری سنت کا پہلا بدلنے والا بنی اُمَیَّہ کاایک شخص ہوگاجس کانام یزید ہوگا۔''
Flag Counter