ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ علی مرتضیٰ اور صحابہ کبارعلیہم الرضوان زمین کربلا کے چپہ چپہ کو پہچانتے تھے، انہیں معلوم تھا کہاں اونٹ با ندھے جائیں گے، کہاں سامان رکھا جائے گا، کہا ں خون بہیں گے۔ یہ شہادت کاکمال ہے ایسا اعلا ن عام ہو، اپنے پرائے سب جان جائیں،مقام بتادیا گیاہو، وہاں کی خاک شیشیوں میں رکھ لی گئی ہو، اس کے خون ہو جانے کا انتظار ہو او ر شوقِ شہادت میں کمی نہ آئے، جذبۂ جاں نثاری روز اَفْزُوں ہوتا رہے، تمام چاہنے والے پہلے سے باخبر ہوں، ہر دل اس زخم کا مزہ لے اور صبر و اِسْتِقْلال کے ساتھ جان عطا کرنے والے کی راہ میں جان قربا ن کی جائے۔ یہ مردانِ کامل اور فرزند انِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ اور انھیں کاحوصلہ ہے۔
؎ طعمہ ہر مرغکے انجیر نیست
پہاڑ بھی ہوتا تو وَحْشَت سے گھبرا اٹھتا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ کاٹنا مشکل ہو جاتا مگر طالبِ رضائے حق، مولیٰ عزوجل کی مرضی پر فدا ہوتاہے، اسی میں اس کے دل کا چین اور اس کی حقیقی تسلی ہے، کبھی وحشت ،پریشانی اس کے پاس نہیں پھٹکتی، کبھی اس مصیبت عظمیٰ سے خلاص اور رہائی کے لئے وہ دعا نہیں کرتا، انتظار کی ساعتیں شوق کے ساتھ گزارتا ہے اور وقتِ مَوْعُود کابے چینی کے ساتھ منتظر رہتاہے۔