Brailvi Books

سوانحِ کربلا
109 - 188
حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے خبر دی کہ میرے بعد میر ا فرزند حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمینِ طَفّ میں قتل کیا جائے گا اور جبریل علیہ السلام میرے پاس یہ مٹی لائے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ (حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی خوابگاہ (مَقْتَل) کی خاک ہے۔ طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔(1)

     امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری دولت سرائے اقدس میں وہ فرشتہ آیا جو اس سے قبل کبھی حاضر نہواتھا، اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) قتل کئے جائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی ملاحظہ کراؤں جہاں وہ شہید ہوں گے۔ پھر اس نے تھوڑی سی سرخ مٹی پیش کی۔ (2)

    اس قسم کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں، کسی میں بارش کے فرشتہ کے خبر دینے کا تذکرہ ہے،کسی میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خاک ِکربلا تَفْوِیْض کرنے اور اس خاک کے خون ہوجانے کو علامتِ شہادتِ اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ قراردینے کا تذکرہ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہادت کی بار بار اطلاع دی گئی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بارہا اس کا تذکرہ فرمایا اور یہ شہادت حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد ِطُفولِیَّت سے خوب مشہور ہوچکی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ آپ رضی
1۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی، الحسین بن علی...الخ، الحدیث:۲۸۱۴،ج۳،ص۱۰۷

والصواعق المحرقۃ،الباب الحادی عشر،الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض 

اہل البیت...الخ،ص۱۹۳

2۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ام سلمۃ...الخ،الحدیث:۲۶۵۸۶،ج۱۰،ص۱۸۰
Flag Counter