Brailvi Books

سوانحِ کربلا
108 - 188
تُنْصَرُوْنَ وَتَرْزَقُوْنَ اِلَّا بِضُعَفَآئِکُمْ۔(1)(رواہ البخاری)
باوجود ا س کے اس فرزند ارجمند کی خبرِ شہادت پاکر چشمِ مبارک سے اشک تو جاری ہو جاتے ہیں مگر مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے، بارگاہِ الٰہی عزوجل میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے امن وسلامت اور اس حادثۂ ہائلہ سے محفوظ رہنے اور دشمنوں کے بربا د ہونے کی دعا نہیں فرماتے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس خبر نے تودل و جگر پارہ پار ہ کردئیے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربان! بارگاہِ حق میں اپنے اس فرزند کے لئے دعا فرمائیے۔ نہ خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا التجا کرتی ہیں کہ اے سلطان دارین! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیض سے عالَم فیض یاب ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعا مستجاب۔ میرے اس لاڈلے کے لئے دعا فرمادیجئے، نہ اہل بیت نہ ازواجِِ مطہرات نہ صحابہ کرام علیہم الرضوان۔سب خبر شہادت سنتے ہیں، شہر ہ عام ہوجاتا ہے مگر با رگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں کسی طرف سے دعا کی درخواست پیش نہیں ہوتی۔ 

    بات یہ ہے کہ مقامِ امتحان میں ثابت قدمی درکارہے، یہ محل عذروتا مل نہیں، ایسے موقع پر جان سے دَرِیْغ جانباز مردوں کا شیوہ نہیں، اخلاص سے جاں نثاری عین تمنا ہے۔ دعائیں کی گئیں مگر یہ کہ یہ فرزند مقامِ صفاو وفا میں صادق ثابت ہو۔ تو فیقِ الٰہی عزوجل مُساعِدْ رہے، مصائب کا ہجوم اور آلام کا اَنْبوہ اس کے قدم کو پیچھے نہ ہٹا سکے۔

    احادیث میں اس شہادت کی بہت خبریں وارد ہیں۔ابن سعد و طبرانی نے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجہاد والسیر، باب من استعان ...الخ، الحدیث:۲۸۹۶، 

ج۲، ص۲۸۰
Flag Counter