Brailvi Books

سوانحِ کربلا
107 - 188
میں تلاطم پیدا کرتا ہے، ماں کی گود میں کھیل کر شفقتِ مادری کے جوش کو اور زیادہ موجزن کرتاہے، میٹھی میٹھی نگاہوں اور پیاری پیاری باتوں سے دل لبھاتا ہے، عین ایسی حالت میں کربلا کا نقشہ آپ کے پیش نظر ہوتا ہے۔ جہاں یہ چہیتا ، نازوں کا پالا، بھوکا پیاسا، بیابان میں بے رحمی کے ساتھ شہید ہورہا ہے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ ہیں نہ حسن مجتبیٰ، عزیز واقارب برادر و فرزند قربان ہوچکے ہیں، تنہا یہ نازنین ہیں، تیروں کی بارش سے نوری جسم لہو لہان ہورہاہے، خیمہ والوں کی بے کسی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور راہِ خداعزوجل میں مردانہ وار جان نثار کرتاہے۔کربلا کی زمین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پھول سے رنگین ہوتی ہے، وہ شمیم پاک جو حبیب ِخداعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیاری تھی کوفہ کے جنگل کو عطر بیز کرتی ہے، خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نظر کے سامنے یہ نقشہ پھر رہاہے اور فرزند سینہ سے لپٹ رہاہے۔حضرت ہاجرہ علیہا السلام اس منظر کو دیکھیں۔

    دیکھنا تو یہ ہے کہ اس فرزند ِارجمند کے جَدِّ کریم، حبیب ِخدا عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، حضرت حق تبارک و تعالیٰ ان کا رضا جو ہے :
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾ (1)
بروبحر میں ان کا حکم نافذ ہے، شجر وحجر سلام عرض کرتے ہیں اور مطیعِ فرمان ہیں، چاند اشاروں پر چلا کرتاہے، ڈوبا ہوا سورج پلٹ آتا ہے،بدر میں ملائکہ لشکری بن کر حاضر خدمت ہوتے ہیں، کونین کے ذرہ ذرہ پر بحکم الٰہی عزوجل حکومت ہے، اولین و آخرین سب کی عُقْدَہ کُشائی اشارۂ چشم پر موقوف و منحصر ہے، ان کے غلاموں کے صدقہ میں خَلْق کے کام بنتے ہیں، مددیں ہوتی ہیں، روزی ملتی ہےھَل
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ 

(پ۳۰، الضحیٰ:۵)
Flag Counter