(۸) اپنے سامنے سے کھائیں۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:''ہر شخص برتن کی اسی جانب سے کھائے جو اس کے سامنے ہو۔''
(صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ،باب الاکل ممایلیہ،الحدیث۵۳۷۷،ج۳،ص۵۲۱)
حضرت سيدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ايک روز کھانا کھاتے ہوئے ميرا ہاتھ پيالے ميں ادھر اُدھر حرکت کر رہا تھا (يعنی کبھی ايک طرف سے لقمہ اٹھا يا کبھی دوسری طرف سے اور کبھی تيسری طرف سے لقمہ اٹھايا)جب اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے ديکھا تو فرمايا:''اے لڑکے!بسم اللہ پڑھ کر دائيں ہاتھ سے کھايا کر اور اپنے سامنے سے کھايا کر ،چنانچہ اس کے بعد سے ميرے کھانے کا طريقہ يہی ہو گيا۔
(صحیح البخاری ،باب التسمیۃعلی الطعام ،ج۳،الحدیث ۵۳۷۶)
(۹)کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے بلکہ جی چاہے