Brailvi Books

سنتیں اور آداب
92 - 123
تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔
 (صحیح البخاری،باب ماعاب النبی طعاماً ، الحدیث۵۴۰۹)
    امام اہل سنت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں : ''کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہيے،مکروہ وخلاف سنت ہے ۔ (سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما يا ورنہ نہیں اورپرائے گھر عیب نکالنا تو(اس میں) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔ ''گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں ''یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر(نقصان دیتی) ہے،اسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ (کہ)بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے ،ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادے ۔ اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے ،اب اگر (یہ) نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ(یعنی میزبان) کو اس کے لئے کچھ اور منگوانا پڑے گا ، اُسے ندامت ہوگی اور تنگ دست ہے تو تکلیف ہوگی ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہر نہ کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
 (فتاویٰ رضویہ ،ج ۲۱ ،ص ۶۵۲)
Flag Counter