| سنتیں اور آداب |
ہدیہ قبول کرنے کی حکمت محدثین کرام رحمہم اللہ یہ بیان کرتے ہیں کہ عموماً یہ چیزیں اتنی قیمتی نہیں ہوتیں اور ظاہر ہے جو سستی چیز ہوتی ہے وہ دینے والے کے لئے زیادہ بو جھ ثابت نہیں ہوتی اورقبول نہ کرنے پر دینے والے کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے ۔ اورچونکہ ہمارے مدینے والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کسی کادل تو ڑنا پسند نہیں کرتے تھے ۔اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خوشبوکا تحفہ رد نہیں فرماتے ۔چنانچہ ہمیں بھی چاہيے کہ اگر ہمیں کوئی خوشبو یا سستی چیز تحفۃً پیش کرے تواسے سنت سمجھ کر قبول کرلیناچاہیے۔ اگر کوئی قیمتی چیز پیش کرے تو اسے بھی قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں مگرغور کرلینامناسب معلوم ہوتاہے کہ کہیں مرو ت وغیرہ میں تو نہیں دے رہا کہ یہ دینا بعدمیں خوداسی پر بار پڑجائے ۔
کون کیسی خوشبواستعمال کرے ؟
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کہ مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مردا نہ خوشبووہ ہے کہ اس کی خوشبو تو ظاہر ہو مگر رنگ ظاہرنہ ہواور زنانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کا رنگ تو ظاہر ہومگرخوشبوظاہر نہ ہو ۔
(جامع الترمذی ،کتاب الادب ،باب ما جآء فی طیب الرجال والنساء،الحدیث ۲۷۹۶، ج۴،ص۳۶۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مردوں کو اپنے لباس پر ایسی خوشبو استعمال کرنی چاہيے جس کی خوشبو پھیلے مگر رنگ کے دھبے وغیرہ نظر نہ آئیں، جیسا کہ گلاب،کیوڑہ ، صندل اور اسی قسم کے بے رنگ عطریات ۔عورتوں کے لئے مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے ،اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند یا اولاد،ماں باپ تک ہی پہنچے تو حرج نہیں ۔
(ماخوذ ازمراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۱۱۳)