Brailvi Books

سنتیں اور آداب
84 - 123
سے بنائے جاتے ہیں ۔ ان کالباس میں استعمال کرنا جائز تو ہے مگر سر اورداڑھی میں لگانا نقصان دہ ہے آج کل''ائیر فریشنر'' کااستعمال عام ہوتا جارہا ہے ان کا چھڑکاؤ خاص طو پر ان کمرو ں میں کیاجاتا ہے جو بندرہتے ہیں اس سے وقتی طو ر پر کمرے میں خوشبو تو ہوجاتی ہے مگر اس کے کیمیاوی مادے فضا میں پھیل جاتے ہیں جو سانس کے ساتھ پھیپھڑوں میں داخل ہو کر صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق ''ائیر فریشنر '' کے استعمال سے چمڑی کاکینسر ہوجاتاہے ۔ چند لمحوں کی خوشبو کے حصول کی خاطر اتنا بڑا خطرہ مول لینا عقلمند ی نہیں ۔ لہٰذا ''ائیر فر یشنر''کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہيے ۔
خوشبو کاتحفہ :
    ''شمائل ترمذی'' میں ہے کہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوشبوکا تحفہ رد نہیں فرماتے تھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیوں کے سردار،ہمارے معطر معطر سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابر کت میں جب خوشبوتحفۃ ًپیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم رد نہ فرماتے ۔
 (جامع الترمذی ،الشمائل ،باب ماجاء فی تعطررسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم،الحدیث ۲۱۶،ج۵،ص۵۴۰)
    ''شمائل ترمذی ''میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ، سرور قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ تین چیزیں واپس نہیں لوٹانی چاہیں (۱) تکیہ(۲) خوشبوو تیل اور(۳) دو دھ ۔
 (المرجع السابق،الحدیث ۲۱۷)
    میٹھے اسلامی بھائیو! خوشبو ، تکیہ اور دو دھ( اور ان میں تمام کم قیمت کی چیز یں شامل ہیں ) کا
Flag Counter