| سنتیں اور آداب |
مدینے والے آقا ، مہکنے اورمہکانے والے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو عمدہ اور بہترین قسم کی خوشبو بہت پسندتھی اور ناخوشگوار بو یعنی بد بو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ناپسند فرماتے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ عمدہ خوشبو استعمال کرتے اور اسی کی دو سرے لوگو ں کو بھی تلقین فرماتے ۔'' حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''ہمارے معطرمعطر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس ایک خاص قسم کی خوشبو تھی جسے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم استعمال فرماتے ہیں۔''
(المرجع السابق،الفصل الخامس فی صفۃطیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ص۸۷)
سر میں خوشبو لگانا سنت ہے:
سرکار مدینہ ، راحت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ''مشک'' سر اقد س کے مقدس بالوں اور داڑھی مبارک میں لگاتے ۔(المرجع السابق)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ، فرماتی ہیں: میں نے اپنے سرتاج ، ماہ نبوت ، تاجدار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو نہایت عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائی تھی یہاں تک کہ اس کی چمک حضور تا جدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں پاتی ۔''(صحیح البخاری،کتاب اللباس ،باب الطیب فی الرأس واللحیۃ،الحدیث۵۹۲۳،ج۴،ص۸۱)
ائیر فر یشنر:
میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ سر اورداڑھی کے بالوں میں خوشبو لگا نا سنت ہے۔مگر یہ خیال رکھیں کہ سر اور داڑھی میں صر ف دیسی خوشبو استعمال کریں ۔ بدقسمتی سے آجکل دیسی خوشبوجات کا ملنا بے حد دشوار ہوگیا ہے۔ اب عموماً عطریات کیمیکلز