Brailvi Books

سنتیں اور آداب
76 - 123
آقا، مدینے والے مصطفےٰ، شب اسرا کے دولہا،شافع روز جزا، سلطان انبیاء،محبوب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہرتکریم والاکام سیدھی طر ف سے شرو ع فرماتے ہیں ۔جیساکہ'' ترمذی شریف'' میں ہے کہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سرکار مدینہ ،را حت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم دائیں جانب سے وضو کرنا پسند فرماتے اور اسی طرح کنگھا بھی سیدھی طرف سے ہی کرتے ،نیز نعلین شریفین بھی جب پہننے کا ارادہ فرماتے تو پہلے سیدھا قد م محترم نعل شریف میں داخل فرماتے ۔
 (جامع الترمذی ،الشمائل باب ماجاء فی ترجل رسول اللہ ،الحدیث ۳۴،ج۵،ص۵۰۹)
    میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدھی طرف سے وضو کرنا پسند فرماتے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وضو کرتے وقت پہلے سیدھا ہاتھ مبارک دھوتے پھر بایاں ۔اسی طر ح پاؤں مبارک دھوتے وقت بھی یہی ترتیب ملحوظ رکھا کرتے ۔نیز اس حدیث پاک میں کنگھا اور نعلین شریفین کے بارے میں بھی سیدھی ہی جانب سے شرو ع کرنا منقول ہوا ۔یعنی سر اقدس اور داڑھی مبارک میں جب کنگھا فرماتے تو پہلے سیدھی جانب سے شروع کرتے ، پھر بائیں جانب ۔نیز نعلین شریفین پہنتے وقت بھی پہلے سیدھے قدم مبارک کو نعل پاک میں داخل فرماتے پھربائیں قدم مکرم کو ۔ صرف ان تین کاموں ہی کی تخصیص نہیں،جتنے بھی تکریم کے کام ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سیدھی جانب سے ہی شروع کرنا پسند فرماتے ۔ چنانچہ لباس پہننا ،مسجد میں داخل ہونا ، سر اور مونچھ وغیرہ کے بال تراشنا ، مسواک کرنا ، ناخن کاٹنا ، آنکھوں میں سرمہ ڈالنا ،کسی کوکوئی چیز دینا یاکسی سے لینا ، کھانا پینا وغیرہ وغیرہ کام سیدھے ہاتھ سے سیدھی جانب سے کرنے چاہیں۔
Flag Counter