| سنتیں اور آداب |
سے روایت ہے کہ تاجدار دوعالم ،شاہ بنی آدم، رسول اکرم، نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مسجد میں تشریف فرماتھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیاجس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ہمارے میٹھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی طر ف اس انداز پر اشارہ کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس کو بال درست کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔وہ شخص بال درست کر کے واپس آیا ،سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''کیایہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کواس طر ح بکھیرکرآتاہے گویا وہ شیطان ہے ۔''
(مؤطا امام مالک ،کتاب الشعر،باب اصلاح الشعر،الحدیث،۱۸۱۹،ج۲،ص۴۳۵)
میٹھے اسلامی بھائیو!مندرجہ بالا احادیث مبارکہ میں سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا اور بے ترتیب چھوڑنا نا پسندیدہ بتایاگیاہے اور فرمایا گیا ہے کہ بالوں کااکرام کیا کر ویعنی ان کو تیل اور کنگھی کے ذریعے درست رکھا کرو ۔ بلکہ بیان کی گئی آخر ی حدیث پاک میں تو بکھرے ہوئے بال رکھنے والے کو شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے۔
لہٰذاہمیں چا ہیے کہ ہم اپنے لباس کوپاک وصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے داڑھی اور سر کے بالوں کو بھی درست رکھا کریں ۔بہر حال ہمارا حلیہ سنتو ں کے سانچے میں ڈھل کر ایسا ستھرا اورنکھرا ہواہونا چاہيے کہ لوگ ہمیں دیکھ کر ہم سے گھن نہ کریں بلکہ ہماری طرف مائل ہوں۔مری ہرہر اداسے یانبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سنت جھلکتی ہو جدھر جاؤں شہا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خوشبو وہاں تیری مہکتی ہو
(۹)کنگھا کرتے وقت سیدھی طر ف سے ابتدا ء کیجئے کہ ہمارے پیارے