Brailvi Books

سنتیں اور آداب
74 - 123
ہے، کہ ہو سکے توروزانہ ایک آدھ بار صابن سے داڑھی دھو لی جائے۔

    (۶)بعض اسلامی بھائی کافی بڑے سائز کا عمامہ شریف باندھنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر صفائی رکھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں اور یوں بسا اوقات لاشُعُوری میں مسجِد کے اندر '' بدبُو''پھیلانے کے جُرم میں پھنس جاتے ہیں ۔ لہٰذا مَدَنی التِجاء ہے کہ عمامہ،سربند شریف اور چادر استِعمال کرنے والے اسلامی بھائی حتَّی الامکان ہر ہفتے اور موسِم کے اعتِبار سے یا ضَرورتاً مزید جلدی جلدی انہیں دھونے کی ترکیب بنائیں۔ ورنہ مَیل کُچیل،پسینہ اورتَیل وغیرہ کے سبب ان چیزوں میں بد بُو ہوجاتی ہے،اگر چِہ خود کو محسوس نہیں ہوتی مگر دوسروں کو بد بُو کے سبب کافی گِھن آتی ہے، خود کو اس لئے پتا نہیں چلتا کہ جس کے پاس مُستَقِلاًکوئی مخصوص خوشبو یا بد بُو ہو اِس سے اُس کی ناک اَٹ جاتی ہے ۔

    (۷)جن اسلامی بھائیوں کے سر پر بال ہوں ان کو چاہیے کہ ان میں کنگھا کيا کریں ۔حضرت سیدنا ابو قتا دہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارمدینہ ، راحت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے میں نے عرض کی کہ میرے سر پر پورے بال ہیں،میں ان کوکنگھا کیاکروں ؟ تو آقائے مدینہ ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں اوران کا اکرام کرو ۔'' لہٰذا حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میٹھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے فرمانے کی وجہ سے کبھی کبھی تو دن میں دودومرتبہ بھی تیل لگایا کرتے ۔
 (مؤطا امام مالک ،کتاب الشعر،باب اصلاح الشعر،الحدیث،۱۸۱۸،ج۲،ص۴۳۵)
    (۸)بال بکھرے ہوئے نہ رکھیں۔حضرت سیدنا عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Flag Counter