میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اِن احادیث مبارکہ سے ہمیں بخوبی معلوم ہوگیا کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیشہ اپنے سر اقد س پر پورے ہی بال رکھے ۔آجکل جو چھوٹے چھوٹے بال رکھے جاتے ہیں ، اس طرح کے بال رکھنا سنت نہیں ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو!طرح طرح کی تراش خراش والے بال رکھنے کی بجائے ہمیں چاہے کہ پیارے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں اپنے سرپرآدھے کانوں تک ، کانوں کی لو تک یا اتنی بڑی زلفیں رکھیں کہ شانوں کو چھولیں ۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک دھاگہ لے کرآدھے کان سے یا ایک کان کی لو سے سر کے پچھلے حصے کی طرف سے دوسرے کان کے نصف تک یا دوسرے کان کی لو تک لے جائیں اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیں ، اب اس دھاگے سے نیچے جتنے بال آئیں وہ کٹوا دیجئے ۔
اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہم سب مسلمانوں کوخلافِ سنّت بال رکھنے اور رکھوانے کی سو چ سے نجات دے کر نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیاری پیاری ، میٹھی میٹھی سنت زلفیں رکھنے والی ''مدنی سوچ'' عطا فرما۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم