Brailvi Books

سنتیں اور آداب
70 - 123
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

     چونکہ بال بڑھنے والی چیز ہے ۔اس لئے جس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جیسا دیکھا وہی روایت کردیا ۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نصف کانوں تک دیکھا تواسی کو روایت کیا اور جس نے اس سے زیادہ بڑے دیکھے اس نے اسی مقدار کو روایت کیا ۔

    (۲) چاہیں توپورے کانوں تک گیسورکھیئے کہ حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلطان مدینہ ، راحت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا قد مبارک درمیانہ تھا ، دو نوں مبارک شانوں کے درمیان فاصلہ تھااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے گیسو مبارک مقدس کانوں کو چومتے تھے ۔
 (شمائل ترمذی ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ ،الحدیث۳،ص۱۷)
    (۳) چاہیں توشانوں تک گیسوبڑھائيے کہ امّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سر اقد س پرجوبال مبارک ہوتے وہ کان مبارک کی لو سے ذرا نیچے ہوتے اور مبارک شانوں کو چومتے ۔
 (شمائل ترمذی ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ ،الحدیث۲۵،ص۳۵)
    (۴)سر کے بیچ میں سے مانگ نکالئے کہ سنت ہے ۔ جیسا کہ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارشریعت میں لکھتے ہیں '' بعض لوگ داہنے یا بائیں جانب مانگ نکالتے ہیں،یہ سنت کے خلاف ہے ۔ سنت یہ ہے کہ اگر سر پربال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے ۔ اور بعض لو گ مانگ نہیں نکالتے بلکہ بالوں کو سیدھے رکھتے ہیں یہ بھی سنت منسوخہ اور یہودونصاریٰ کا طریقہ ہے ۔''
 (بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۹۹)
Flag Counter