Brailvi Books

سنتیں اور آداب
67 - 123
لکھتے ہیں :''داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔ جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیں، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں ۔یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا وممتاز ہوتے ہیں ۔اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتاہے یہ بال اس راہ سے جدا ہوتے ہیں، نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ،ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں۔
    (۱۲) ہاتھ ،پاؤں او رپیٹ کے بال دور کرناچاہیں تو منع نہیں ۔
 (بہارِ شریعت ،حصہ ۱۶،ص۱۹۷)
    (۱۳) سینہ او رپیٹھ کے بال کاٹنا یامونڈنا اچھا نہیں ۔
 (المرجع السابق)
    (۱۴) داڑھی بڑھانا سنن انبیاء ومرسلین علیہم السلام سے ہے ۔
 (بہار شریعت،حصہ۱۶، ص۱۹۷)
مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ۔'' ہا ں ایک مشت سے زائد ہوجائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں۔''
 (درمختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۱)
    (۱۵) مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے بڑے ہوں تو حرج نہیں۔بعض اسلاف رحمہم اللہ (یعنی گزشتہ بزرگوں) کی مونچھیں اس قسم کی تھیں۔
 (الفتاویٰ الھنديہ ،کتاب الکراہیۃ ،الباب التاسع عشر فی الختان والحصا...الخ،ج۵،ص۳۵۸)
    (۱۶) مرد کو چاہیے کہ موئے زیر ناف اُستر ے وغیرہ سے مونڈدے ۔
 (بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۱۹۶)
Flag Counter